یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 26 of 117

یادوں کے دریچے — Page 26

26 یادوں کے در بیچے میں گئے تو میں نے دیکھا کہ خیمہ میں چار پائی کے ایک طرف میز اور کرسی رکھے ہوئے تھے۔میز پر ٹائم پیس رکھا ہوا تھا۔مٹی کے تیل کا لیمپ مع دیا سلائی کے پڑے تھے۔کوئلوں کی انگیٹھی دہک رہی تھی۔مجھے دکھا کر واپس تشریف لے گئے۔میں نے اپنی کتابیں نکالیں اور میز پر رکھ دیں۔رات کے کھانے اور نماز عشاء سے فارغ ہو کر میں اپنے خیمہ میں آگیا اور پڑھائی شروع کر دی۔رات چار بجے تک پڑھتا رہا اور پھر سو گیا۔ایک گھنٹہ ہی سویا تھا کہ ایک ملازم نے مجھے جگا کر کہا کہ حضرت صاحب ناشتہ پر بلا رہے ہیں۔میں جلدی سے اُٹھ کر گیا تو فرمانے لگے کہ ناشتہ کر کے جلدی سے شکار پر جانے کے لئے تیار ہو جاؤ۔اس جگہ آپ کے لباس جو آپ شکار پر جاتے ہوئے پہنتے تھے کا ذکر بھی کردوں۔آپ پر جیس“ اور چھوٹا کوٹ اور سر پر لنگی جو ہلکے بادامی رنگ کی ہوتی تھی پہنا کرتے تھے۔شکار کے لئے دریا پر ایک بڑی کشتی جس میں عملہ سوار ہوتا تھا اور کھانا وغیرہ رکھا جاتا تھا اور ایک چھوٹی کشتی جو خاص طور پر دریائی پرندوں کے شکار کے لئے بنوائی ہوئی تھی۔جس میں حضرت ابا جان، ان کے پیچھے ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب اور ان کے پہلو میں میں بیٹھتے تھے۔کشتی کے سامنے کی طرف کچھ خشک جھاڑیاں لگی ہوتی تھیں تا پرندے یہ سمجھیں کہ دریا میں کوئی جھاڑی بہتی ہوئی آرہی ہے اور خوف زدہ نہ ہوں۔جب کشتی اور پرندوں کا درمیانی فاصلہ تھوڑا رہ جاتا جو کچھ پانی میں کچھ دریا کے کنارے ریت پر بیٹھے ہوتے تھے تو سب اپنی اپنی بندوق سنبھالے لیٹ جاتے تھے تا پرندے اڑ نہ جائیں۔میں چونکہ تقریباً ساری رات پڑھتا رہا تھا کشتی میں سوار ہوتے ہی لیٹ کر سو گیا۔جب فائر کر نے کا وقت آیا تو ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب نے مجھے جگانے کی کوشش کی تاکہ میں بھی فائر کر سکوں۔ابھی پوری آنکھ نہ کھلی تھی کہ میرے کانوں میں ابا جان کی آواز آئی ڈاکٹر صاحب اس کو نہ جگائیں سوتا رہنے دیں یہ ساری رات پڑھتا رہا ہے۔واضح ہے کہ جو شخص خودساری رات کام میں مصروف رہا ہو اس کو ہی یہ علم ہو سکتا تھا کہ میں ساری رات پڑھتا رہا ہوں۔دن کے وقت اگر کچھ تفریح آپ کر لیتے تھے تو رات کا بیشتر حصہ روزانہ آمدہ ڈاک، نظارتوں کی رپورٹیں ، ان پر احکامات و فیصلے علمی کام وغیرہ پر ہی صرف ہو جاتا تھا۔مجھ سے جو احباب یہ سوال کرتے رہے ہیں اور کرتے ہیں کہ حضرت مصلح الموعودؓ کے اوقات کا ر کیا تھے اس کا جواب تو ان دو ذاتی مشاہدات میں آ گیا ہے۔میرا موٹا اندازہ ہے کہ 17 سے 18 گھنٹے روزانہ کام آپ کا معمول تھا۔یہ لکھتے لکھتے مجھے حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کی ایک نظم کا وہ شعر یاد آ گیا جس میں آپ نے حضرت مصلح موعودؓ کی آخری