یادوں کے دریچے — Page 12
12 نیز ایک اور موقعہ پر جبکہ ایک دوست نے حضرت خلیفہ امسیح الاوّل سے کسی آیت کی تفسیر سمجھنا چاہی تو اس پر آپ نے فرمایا جا کر میاں محمود سے پوچھ لو وہ تمہیں سمجھا دیں گے“ ( ج ) حضرت خلیفہ اسیح الاوّل نے اپنی ایک تقریر کے دوران جو آپ نے احمد یہ بلڈنگز لا ہور میں جون 1912ء میں فرمائی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے متعلق فرمایا: میاں محمود بالغ ہے۔اس سے پوچھ لو کہ میرا سچا فرمانبردار ہے۔ہاں ایک معترض کہہ سکتا ہے کہ میرا سچا فرمانبردار نہیں۔مگر نہیں ، میں خوب جانتا ہوں کہ وہ میرا سچا فرمانبردار ہے اور ایسا فرمانبردار کہ تم میں سے ایک بھی نہیں۔“ 66 اخبار بدر قادیان 28 جون 1912ء) (1) حضرت مسیح موعود کی وفات پر دشمنوں نے بہت اعتراض شروع کر دیئے تو حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے اس کا جواب ایک کتابی شکل میں دیا۔اس کتاب کا نام آپ نے ” صادقوں کی روشنی کو کون دور کر سکتا ہے رکھا۔اسے پڑھ کر حضرت خلیفتہ اسیح الاول نے مولوی محمد علی صاحب سے فرمایا: مولوی صاحب ! حضرت مسیح موعود کی وفات پر مخالفین نے جو اعتراضات کئے ہیں ان کے جواب میں تم نے بھی لکھا ہے اور میں نے بھی۔مگر میاں ہم دونوں سے بڑھ گیا ہے“ اس جگہ مولوی محمد علی صاحب کا مختصر تعارف بھی ضروری ہوگا۔کیونکہ جماعت کے بہت کم نو جوانوں اور نئے احمدی احباب کو اس کا علم نہیں ہو گا۔مولوی محمد علی صاحب نے جو یکے از رفقاء مسیح موعود تھے خلافت ثانیہ کے انتخاب کے بعد بیعت نہیں کی اور قادیان چھوڑ کر لا ہور چلے گئے تھے اور اپنی علیحدہ جماعت بنالی تھی۔کیونکہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کے بڑے بیٹے جو خلیفہ ثانی منتخب ہوئے تھے کو خلیفہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔نہ صرف یہ بلکہ حضرت مسیح موعود کے مقام سے بھی منحرف ہو گئے تھے اور آپ ک مجد دیا مجد داعظم کے لقب سے پکارنے لگے۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے متعلق حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کے مندرجہ بالا چند ایک فرمان (جو پہلے پیرایہ میں درج ہیں ) اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آپ کی زندگی میں ہی اس گروہ نے خلافت احمد یہ اور خصوصاً حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے متعلق ریشہ دوانیاں شروع کر دی تھیں۔اور حضرت خلیفہ امسیح الاوّل خوب جان گئے تھے کہ ان لوگوں میں سے