یادوں کے دریچے — Page 11
11 پڑھائی اور قادیان میں موجود احباب نے حضور کا آخری دیدار کیا اور شام 6 بجے حضور کا جسدِ مبارک بہشتی مقبرہ قادیان کی خارک مقدس کے سپرد کر دیا گیا۔-4 حضرت خلیفہ اسیح الاوّل 13 / مارچ 1914 ء بروز جمعہ سوا دو بجے بعد دو پہر قادیان میں فوت ہوئے اور بروز ہفتہ 14 مارچ 1914 ء حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ اسیح الثانی منتخب ہوئے اور آپ نے دو ہزار احمدیوں کے ساتھ حضرت خلیفتہ اسیح الاول حکیم مولانا نورالدین صاحب کی نماز جنازہ پڑھائی اور سوا چھ بجے شام حضرت خلیفتہ المسیح اول اپنے آقا کے پہلو میں دفن ہوئے۔حضرت خلیفہ اول کے آپ کے متعلق ارشادات رض 5- حضرت خلیفہ انبیع الاول کا حضرت مرزا بشیر الدین محمد احمد (خلیفة المسیح (ثانی) کی علمی ار این مواد الثانی کی قابلیت ، تقوی اور آپ پر کامل اعتماد کے اظہار کی چند ایک مثالیں لکھ رہا ہوں :۔(1) حضرت خلیفتہ اسیح الاوّل نے اپنی علالت کے دوران حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کو امام الصلوۃ مقرر فرمایا۔اس پر مولوی محمد علی صاحب نے حضرت حافظ روشن علی صاحب کے ذریعہ حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کو پیغام بھجوایا کہ ”جماعت کے بڑے بڑے جید عالم موجود ہیں ان کی موجودگی میں میاں صاحب کو امام مقرر کرنا مناسب نہیں۔“ اس پر حضور نے فرمایا ”اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَنقَكُمُ مجھے محمود جیسا ایک بھی متقی نظر نہیں آتا۔پھر فرمایا کیا میں مولوی محمد علی صاحب سے کہوں کہ وہ نماز پڑھایا کریں۔“ الفضل 19 جنوری 1940ء) (ب) حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد نے حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی موجودگی میں آپ کے ارشاد پر پہلی دفعہ نماز جنازہ 29 / جولائی 1910ء کو پڑھائی (اس وقت آپ کی عمر 21 سال تھی ) اور خطبہ جمعہ میں آیت إِنَّ اللَّهَ يَا مُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ کی ایسی لطیف تفسیر بیان فرمائی کہ حضرت خلیفہ اسیح الاوّل بہت ہی محفوظ اور مسرور ہوئے اور بڑے پیار سے فرمایا: میاں صاحب نے لطیف سے لطیف خطبہ سنایا وہ اور بھی الطف ہو گا اگر تم غور کرو گے۔میں اس خطبہ کی بہت قدر کرتا ہوں اور یقیناً کہتا ہوں کہ وہ خطبہ عجیب عجیب نکات اپنے اندر رکھتا ہے (اخبار الحکم 28 /اکتوبر 1911ء)