یادِ محمود ؓ — Page 91
91 ربوہ کے آسماں مرا ستارا پر ٹوٹا مرا ہائے کدھر گئے وہ کر کے مجھے اشارا تاریکیاں عموں کی بڑھنے لگیں فضا میں اب چاندنی کہاں کی جب چاند ہی سدھارا پسر غلام احمد ختم رسل کی خاطر جو خاک میں ملا تھا آقا تھا وہ ہمارا وہ پہنچ گیا ہے روحانی آسماں پر نقطہ وہی ہے جس عیسی نبی اتارا اللہ کی خلافت جاری ہے جو ازل سے اب ٹھہرو بھی رہے گی جاری اس کا نہیں کنارا وعدہ کیا جو اس نے ہو کر اللہ کی ہو نصرت ناصر ہے نصیر سننا کوئی پکارتا ہے آئی صدا کہاں سے کس نے تجھے پکارا رہے گا پورا وہ ہمارا اک تیرگی مٹا کر آنکھوں میں آگئے وہ آنکھوں میں جذب کر کے دل میں انہیں اتارا شیخ نصیرالدین احمد ایم اے سابق مبلغ نائیجیریا)