یادِ محمود ؓ

by Other Authors

Page 90 of 132

یادِ محمود ؓ — Page 90

90 90 عرفان کی شراب پلاتا رہا ہمیں ہمیں جنت کی راہ پر جو چلاتا رہا ہر فرق نیک و بد کا بتاتا رہا ہمیں کیا کیا کہوں کہ کیا کیا سکھاتا رہا ہمیں وہ جس نے علم وفضل کے دریا بہادئیے سائل گواہ ہیں کہ خزانے لٹا دیئے وہ جس نے کفر و شرک کے ایواں گرا دیئے چہرے پہ حق کے جتنے تھے پردے ہٹا دیئے محمود خود تھے ہم کو بھی محمود کر گئے گردش میں ہر ستارے کو مسعود کر گئے ملت سے کفر و شرک کو مفقود کرگئے باطل کو حق کے سامنے مسجود کر گئے عالم، ولی مقرر و زاہد حضور تھے عشق رسول رکھتے تھے عابد حضور تھے جس چاند کی ضیاء سے منور تھا اک جہاں کہتا ہوں سچ کہ ان دنوں روشن تھا آسماں اس روشنی میں چلتا تھا اپنا یہ کارواں محمود کاروان کے ہوتے تھے پاسباں ڈوبا وہ چاند اپنے ستاروں کو چھوڑ کر ہم بیکسوں کو درد کے ماروں کو چھوڑ کر ( شاہد اعظمی گوجرہ)