یادِ محمود ؓ — Page 89
89 آنکھ ހނ اوجھل یکا یک چاند اپنا ہو گیا غم کی کٹیا میں غریبوں کا بسیرا ہوگیا آنکھ سے جاری ہیں آنسو دل سے اٹھتا ہے دھواں مصلح موعودؓ کو اب ڈھونڈنے جائیں کہاں جس کے دم سے تھی بہاراں باغ سے رخصت ہوا وہ مسیح پاک کا نور نظر رخصت ہوا ہیں عنادل آنکھ ނ مضمحل افسردگی ہے اب یہاں گل رعنا کہاں اوجھل ہوا ہے وہ بے کس و بیل ہیں اب تو رازداں جاتا رہا زندگی کا لطف ہی جاتا رہا جاتا رہا باغ عالم پر اداسی ہے اندھیرا ہر طرف ان کی شفقت ان کی الفت ڈھونڈیں اب ہم کس طرف صبر کر اے درد اس پر جو خدا نے ہے کیا جو تجھے منظور خاطر تھا خدایا ہو گیا خاطر تھا خدایا (رضیه در دایم اے ربوہ )