یادِ محمود ؓ

by Other Authors

Page 84 of 132

یادِ محمود ؓ — Page 84

84 کہتا ہے کون باغ جہاں میں نہیں ہے تو گلشن میں تیرا رنگ ہے پھولوں میں تیری بو سر سبز ہے چمن تیرا ویسا ہی ہو بہو عنبر بکھیرتی ہے صبا اب بھی چار سو آواز تیری کان میں اب تک ہے گونجتی تیری شبیہہ پاک ہے آنکھوں میں گھومتی احسان وحسن سے ترے واقف ہیں بحر و بر ان کو دیا ہے تو نے معارف کا مال و زر پورا کیا جو مصلح موعود کا تھا کام باقی رہا نہ کچھ کہ کہیں جس کو ناتمام موتی دیئے کلام الہی کے رول کر چہرہ دکھایا شاہد معنی کا کھول کر دنیا نئی بسائی، سجائی، سنوار دی مردہ زمیں کو رونق فصل بہار دی کشتی بچائی اور تلاطم سے یار کی طاقت تمام راہ خدا میں شار کی تھی قصر زندگی کی اسی قول پر بنا اسلام چیز کیا ہے خدا کے لئے فنا“ ساقی وہی ہے جام وہی ہے وہی سبو لیکن ہر اک نگاہ کو ہے کس کی جستجو؟ ہم اہل کاروان تھے تو میر کارواں یوں قافلہ ہمارا بصد شوق تھا رواں پر تو نے اپنے نقطہء نفسی کو جا چھوا ہم دیکھتے ہی رہ گئے یہ کیا سے کیا ہوا وقت وصال حسرت و غم کا ہو کیا بیاں وہ انقلاب تھا کہ قیامت کا ہو گماں حکم خدا نے جب تجھے ہم سے جدا کیا فرقت کے غم کو ہم نے گلے سے لگا لیا جب آنکھ تیری دید کو بے حد ترس گئی دل سے اٹھی گھٹا تو پلک سے برس گئی مجھ پر کبھی یہ ہو نہ سکا آج تک عیاں رخصت سے تھی تیری یا ترے پیاروں کا امتحاں لے جنازہ اٹھنے کا وقت۔رخصت‘ بطور اسم بھی استعمال ہوتی ہے ( شاکرہ بیگم لاہور )