یادِ محمود ؓ — Page 83
883 آه ! وہ فضل عمر سا رہنما جاتا رہا مظہر الحق ولعلاء معجز نما جاتا رہا نور سے جس کے منور ایک عالم ہوگیا وہ مجسم نور اور وہ مہ لقا جاتا رہا جس کی آمد تھی خدائے پاک کا کیا نزول و تعلیم و صاحب فہم و ذکا جاتا رہا وہ جس کی شہرت دور دنیا کے کناروں تک ہوئی لشکر تثلیث کا سب غلغلہ جاتا رہا جس نے قبروں سے نکالا زندگی قوموں کو دی وہ وه دم عیسی و محبوب خدا جاتا رہا طبقہء نسواں کو جس نے کی عطا تنظیم نو وہ مشرق ومغرب میں غالب کر دیا اسلام کو مدیر راہبر وہ ناخدا جاتا رہا عاشق دین محمد مصطفی جاتا رہا کر کے دورہ ختم اپنا ماہ کامل چھپ گیا ماہ ربوہ اور شاہ قادیاں جاتا رہا ہم سے رخصت ہو گیا ہے جب سے رحمت کا نشاں“ زندگی کا لطف جینے کا مزا جاتا رہا احمدیت کا خدا حافظ رہے ناصر رہے جب خدا پر کی نظر سارا گلہ جاتا رہا شاکرہ اہلیہ لطیف الرحمن صاحب دھرمپورہ لاہور )