یادِ محمود ؓ — Page 75
75 نسرین و سمن، نرگس و ریحاں کی طرح ہے وہ چہرہ شاداب گلستاں کی طرح ہے مشتاق نگاہوں سے بھی ہو جاتا ہے دھندلا وہ جسم کہ جو ماہ درخشاں کی طرح ہے تم تھے تو بیاباں میں بھی رونق تھی مگر اب کہتے ہیں جسے گھر وہ بیاباں کی طرح ہے تھے تو دل زار بھی فردوس صفت تھا فردوس بھی اب قریہ ویراں کی طرح ہے تم تھے تو مری آنکھ تھی اک نور کی مشعل تم اب آنکھ مری روزنِ زنداں کی طرح ہے تھے تو شب تار بھی روشن تھی مگر کہتے ہیں جسے دن شب ہجراں کی طرح ہے رشتہ ہے محبت کا بھی کیا قدرتی رشتہ گاتا میں جسم کی مانند ہوں تو جاں کی طرح ہے جو محمود ترے عشق کی دھن میں ہے وہ زمزمہ پریوں کے دبستاں کی طرح ہے (ڈاکٹر محمود الحسن محمود ایمن آبادی)