یادِ محمود ؓ — Page 74
74 عجیب سلسلہء دور روزگار ہے آج کہ آسماں کی طبیعت بھی پر غبار ہے آج کون جانب فردوس ہو گیا رخصت کہ کائنات کی ہر چیز دلفگار جسے بھی دیکھیں ہے یکسر ملال کی صورت ہے آج ہے دل میں حشر بپا روح بیقرار ہے آج گلوں میں رنگ فضاؤں میں بو نہیں باقی کچھ اس طرح سے لٹی رونق بہار ہے آج چمن سے وہ گل رعنا چنا ہے رعنا چنا ہے کیں نے کہ پھول پھول پریشاں ہے اشکبار ہے آج طلوع صبح میں وہ بانکپن نہیں موجود غروب شام کی تقریب سوگوار ہے اگر چہ اگری مہر سکوت آج رواں الم زدہ آنکھوں آبشار ہے آج لگی ہوئی لبوں پر ہے اگر چه ان ہزاروں کا اگری جدا ہوا ہے ہجوم اداس ربوہ کی ہر ایک رہ جگر گوشہ مسیح زماں ہے وصال عاشق عاشق آقائے فرشتے خلد بریں میں ہوئے ہیں صف بستہ گزر ہے آج نامدار ہے آج ہے آج انہیں وہاں میرے آقا کا انتظار کچھ اس ادا اچانک وہ باوقار گیا کہ اس کو چھوڑ نے خود موسمِ بہار گیا ( ڈاکٹر محمودالحسن محمود ایمن آبادی)