یادِ محمود ؓ — Page 65
65 59 برسوں یہ نقش دل سے مٹایا نہ جائے گا محمود! تیرا نام بھلایا آہوں سے تیری یاد کو سینچیں گے دل مگر تیرا مقام پا کر تجھے اک جائے گا آہوں سے دل کا داغ مٹایا نہ جائے گا سکے گی نگاہِ شوق! تیرا نظیر پھر کبھی لایا لایا نہ جائے گا بھولے تھے مجھ جیسے کم خیال جو کھو گیا پایا نہ جائے گا معبود! وہ بھی آدم خاکی تھا جو سدا اک تازه فکر و نظر کو طلعت خورشید بخش کر قطروں کو دے کے قلزم طغیان زندگی شاہراہ بناتے ہوئے گیا تاروں کو گرد راہ بناتے ہوئے گیا ذروں کو مہر و ماہ بناتے ہوئے گیا اک وادی حقیر میں آیا مگر اسے اک جنت نگاه بناتے ہوئے گیا ( عبدالسلام اختر ایم اے)