یادِ محمود ؓ — Page 64
64 ملت کا آسماں ہے درخشندہ آج بھی ہر فرد کی نگاہ ہے تابندہ آج بھی کہتا ہے کون زیر زمیں چُھپ گیا ہے چاند! فضل عمر ہیں زندہ مومن ہے اب کافر ہے و پائندہ آج بھی بھی جذبہ شاداں لئے ہوئے دل گرفته شرمندہ آج بھی و یہ ساقی ازل کی ہے سنت کہ بزم میں آب بقا بھی ملتا ہے جام فنا کے بعد تسیکس کی آبشار ہے ہر موج اضطراب برکھا برس ہی جاتی ہے کالی گھٹا کے بعد بھول ملت احمد کا اختر نہ بھول أصول اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد ( عبد السلام اختر ایم اے)