یادِ محمود ؓ — Page 35
35 زندگی اس صحبت دل طرح ہوئی ویراں کوئی بھی اس طرح یار مہرباں رہی وہ چوٹ آج کھائی ہے لذت گفتگو تو چیر دو تمام ماه بزم صبح وشام رونق لے گیا ساتھ تو مرے محبوب شان محبوبی ہوئی ہوئی بدو نہیں باقی نہیں باقی لہو نہیں باقی آئیں گے اور بھی شہ خوباں کہاں تیرا حسن پر دلآرائی و رعنائی اور بھی میر کارواں ہوں گے پر کہاں تیری بھی دل زخم کھا کے آیا ہے آئی تری شان دارائی مسیحائی بھی اپنا جہاں ہوا تاریک ہم نے تجھ منزل ہر قدم تیرا سینکڑوں سال جب کہیں تجھے و جاتے ނ لوگ آتے ہیں رخصت اے دل کے مالک و مختار رخصت اے میرے قافلہ سالار میں بھی تھا تیری رہگزر کا فقیر میں بھی تھا زیر سایه دیوار عزم کی سے ہی روشنی پائی کارفرمائی ہیں دل تھا نا آشنا خزاں سے مرا تو گیا رونق حیات گئی اپنی منزل کو جالیا تو تیرے دم سے تھی زندگی میں بہار گئی میری حسرت دیدار ره نے میں ہوں اور میرے راستے کا غبار مجھ کو اکسیر خاک راه تیری دل مرا تیرے نقشِ پا ނ جھیں وقت کے تھپیڑوں گے چراغ چراغ الفت ނ کے شار میرے محبوب تیرے بعد بھی میں تیری عظمت کے گیت گاؤں گا تو نے جو لا زوال درد دیا میں اسے حرز جاں بناؤں گا