یادِ محمود ؓ

by Other Authors

Page 87 of 132

یادِ محمود ؓ — Page 87

87 880 جس کی تقریروں سے لرزہ کفر کے ایوان میں جس کی تحریریں نہیں رکھتی ہیں ثانی شان میں جو رضائے حق کے گویا عطر سے ممسوح تھا وہ بسوئے نقطہء خود مرکزی مرفوع تھا وہ جیا جب تک جیا اسلام کی خاطر جیا اس نے تن من دھن سبھی کچھ حق پہ قرباں کر دیا اس کی فرقت میں فقط آنسو شریک غم نہیں ارض ربوہ رو رہی خود اکیلے ہم نہیں ہے عہد کرتے ہیں ترے بالیں یہ تیرے سوگوار تیری روح پاک پر مولیٰ کی رحمت بے شمار ہر طرف پھیلائیں گے اسلام کی چمکار کو کند کر کے توڑ دیں گے کفر کی تلوار کو یاد رکھیں گے ابد ہم تیرے ہر پیغام کو اور غذا سمجھیں گے گے اپنی خدمت اسلام کو قریشی عبد الرحمن ابد)