یادِ محمود ؓ — Page 85
85 55 ہوئے ہیں رو سال اور رو دن خدا نے اسے بلایا وہ ایک ننھا سا پاک چشمه جو بڑ۔بڑھتے تھا دریا بھرتا چڑھتا دریا کہ جس کے سیل رواں کے آگے سکا آج تک نہ کوئی مزاحمت کا حقیر تنکا! وہ اک گرجتا امڈتا طوفاں وہ کوند تا رعد و برق باراں جو کے برسا تو کشت دیں پھر سے ہو گئی سرسبز ہوا مگر ہے آنکھوں اپنی اوجھل ہے دل کے قریب تر یہ پتلیاں جن میں موہنی سی تمہاری تصویر گھومتی ہے یہ آشنا کان جن میں اب تک تمہاری تقریر گونجتی ہے کبھی ہواؤں کا زور اس میں کبھی سمندر کی وسعتیں تھیں کبھی تھی موجِ صبا کی شوخی کبھی تکلم کی سطوتیں تھیں زمانه مگر گو би رنگ وہ بدلے ہزار جھونکے نسیم صبح چمن کے آئیں وہ قلب و نظر کی ٹھنڈک جو تیری الفت کے مرغزاروں میں بس رہی ہے ( پروفیسر نصیر احمد خان)