یادِ محمود ؓ — Page 73
73 بھی تری ،تلاش ترا انتظار ہے اب کہ بے قرار دل بے قرار ہے اب بھی وہ کے جو تو نے پلائی تھی اپنے ہاتھوں اُسی کا ذہن میں باقی خمار ہے اب اب بھی ترے لبوں سے ہمیشہ جو پھول جھڑتے تھے انہی سے اپنے چمن میں بہار ہے اب بھی ترے ہی سوز دروں کا اک کرشمہ که شمع دین ہدی تابدار ہے اب ترا ہی منظر دید اے شه ترا غلام را بگزار اب خوباں بھی ہے بھی (ڈاکٹر محمود الحسن محمود ایمن آبادی)