یادِ محمود ؓ — Page 59
59 59 بھی تیرا سانحہ اے گردش ایام ہے موت کی وادی کا منظر حشر کا ہنگام ہے پاک طینت راہرو اور ایک انبوہ کثیر سوگواروں کی جبیں آنسوؤں کا سیل آہیں، دمیدم اک اضطراب اور اک غم کی لکیر ہے قلق، عناصر اور ان میں ڈوبتا اک آفتاب سب سسکیاں، فریاد رنج و غم، کہہ رہے ہیں مل کے داستاں باب عدم میں داستاں گو رہ گئے جس قدر سختی مقدر نے عطا کی ہاں سہر گئے فضل آه و فغاں عمر کی داستاں مگر پیغام ان کا ہم بھلا سکتے نہیں مکتب اسلام ان کا ہم بھلا سکتے نہیں ނ درس جو ہم کو ملے اس زندگی کے طور زندہ جاوید ہیں فضل عمر کے نور سے ناشر انوار ہر اک پیام زندگی نور لیتی ہے کہیں سے صبح وشام زندگی مہر روشنی موجود ہے هم به صدق دل کریں گے جانشیں کا احترام اور بھی مضبوط ہو گا زندگانی کا نظام چھپ گیا ہے کے زندہ رہنے کے لئے اک زندگی موجود ہے ہم عقیدت مند ہیں اے اختر ثابت قدم خدمت اسلام غافل کبھی ہوں ا حضرت فاریہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی گے (اختر گوبند پوری)