یادِ محمود ؓ — Page 53
53 53 عظیم شان کا حامل تھا دور فضل عمر نزول رحمت یزداں تھا ہم پہ شام و سحر وہ کارواں کہیں رکتا تو کس طرح رکتا امیر جس کا رہا خود کلید فتح و ظفر تمام عمر گزاری جہاد اکبر میں رہا وہ کفر کے لشکر کے آگے سینہ سپر ہزار بار اٹھے تیز وتند طوفاں بھی ڈرا سکے نہ ہمارے وہ ناخدا کو مگر ضیاء نور محمد جگمگا اٹھی وہ سرز میں کہ جہاں ڈالی اس نے ایک نظر خدا کے گھر کی بنا اس نے ہر جگہ رکھ دی احد احد کی صدا دی بتانِ غرب کے گھر فضل عمر سے ہے عمر سے ہے آج رشک قمر بھی نگاه خدا کی شان کہ تاریک براعظم چمن کے حسن میں ہوتا ہے باغباں کا لہو سبق یہ دے گئے ہم کو جناب فضل عمر مبادا غم تجھے شبیر بے عمل کر دے کمر بخدمت قرآن ببند بار دگر الحاج چوہدری شبیر احمد وکیل المال اول تحریک جدید ) آٹھ تاریخ تھی نومبر کی سال پینسٹھ تھا عیسوی سن کا دین احمد کا اک فدائی جب اپنے مولیٰ کو ہو گیا پیارا ہائے افسوس اپنے محسن کو دوسرے دن بروز سہ شنبہ اپنے سینوں پر رکھ کے سل ہم نے اپنے ہاتھوں سپرد خاک کیا جانے والے تری جدائی کا پھر بھی دل کو یقیں نہیں آتا