یادِ محمود ؓ

by Other Authors

Page 48 of 132

یادِ محمود ؓ — Page 48

48 مبارک کہ وہ نور آتا ہے نور ہو جس سے جلال خدا کا ظہور شکوه فضل خدا اس ہے عظمت کا حامل مگن سایه وہ روح زمانہ وہ فخر زمن ہے وہ اور زمانے میں شہرت وہ یا جائے گا آپ اپنی عظمت کو منوائے گا وہ ہماری محبت کے قابل ہے وہ مبارک ہو تجھ کو غلام زکی جو ہو گا یقیناً تری نسل ہی مبارک ہو لڑکا یہ پاک و وجیہہ جو ہو گا سراسر تری ہی نواسی میں آخر بفضل خدا جو موعود بچه تولد ہوا لگا جلد بڑھنے وہ عدد ماه مبین جو سب پیشگوئیاں تھیں پوری ہوئیں ہوئی جب مسیح خدا کی وفات تو نظروں میں اندھیر تھی کائنات کو شماتت کا موقع ملا شریروں کا بھی غنچہ دل کھلا سمجھے جماعت یہ مٹ جائے گی نشاں بھی نہ اس کا پائے گی جماعت بھی تھا وقت گراں ہر اک دل تھا زخمی نظر خونچکاں وہ تھا تھی ہر آدمی بس اسی فکر میں خدا جانے ہر یکایک سمت رہیں رہیں نہ آتی نظر تھی کہیں روشنی چھائی ہوئی تیرگی کرن اک ہویدا ہوئی چمک سی نگاہوں میں پیدا ہوئی جو ظلمت کے بادل تھے چھٹنے لگے نگاہوں سے پردے بھی ہٹنے لگے مبدل ہوئیں ظلمتیں نور میں چلا پھر ہوئی جلوہ طور میں وہ ایک کمسن جواں ہمت شجاعت کا کوہ گراں کہ گویا ہوا یوں اٹھا عزم سے جماعت پہ موقع تھا تم یہ جاں گسل ہے مجھے اے مقدس وجود وہ فخر رسل ورور بیٹھوں گا میں بخدائے