یادِ محمود ؓ — Page 47
47 +7 شراب محبت پلا ساقیا وہی جام گردش میں لا ساقیا نگاہوں کے پردے اٹھا ساقیا احوال نظروں میں لا ساقیا تصور میں ہیں آج وہ واقعات ہے وابستہ جن سے جہاں کی حیات اٹھارہ سے اوپر چھیاسی تھے سال که گویا ہوا یوں شر ہوا یوں شہ ذوالجلال مبارک ہو تجھ کو فخر رسل کہ ملتا ہے تیری دعاؤں کا پھل بہت بڑھ گیا جبکہ درد نہاں کہ تیری صداقت ہے سب پر عیاں کہ تیری جماعت یہ پھولے پھلے زمانہ حق کا ہی سکہ چلے ترے تیری دعاؤں کو میں نے سنا اس سفر کو مبارک کیا سُن اے ابن مریم سخن دلپذیر کہ بیٹا میں دوں گا تجھے بے نظیر نشاں ہے جو فضل اور احسان کا بہت مرتبہ ہے اس انسان کا وہ فرزند دلبند ہے ارجمند خلائق کا ہوگا بہت دل پسند مبارک ہو فتح و ظفر کی کلید ہے تیرے لئے خوشی کی نوید وہ آئے گا مُردوں میں دم پھونکنے نجات ان کو دلوائے گا موت سے جو قبروں میں ہیں باہر آئیں گے وہ وہ وہ بہت ہی ذہین و فہیم وہ ہوگا که عطر رضا سے جو ممسوح ہے وہ ہے وہ دین اسلام کو پھیلائے گا کلمہ تمجید، دل کا حلیم سارے زمانے کا ممدوح ہے حسن واحساں میں تیرا نظیر کشادہ جبیں اور روشن روشن ضمیر علوم اس میں ہیں ظاہری باطنی وہ دنیا میں پھیلائے گا روشنی وہ ہوگا اسیروں کا بھی رستگار ہے ان کے لئے مژده کردگار