یادِ محمود ؓ — Page 37
37 337 تو نے ہر ایک پر عنایت کی کرۂ ارض کے کناروں تک ثمر ہے تری ہی محنت کا پر ہر قدم ترے خدا نے بھی تیری دن رات کی رات کی دعاؤں کو ان تو نے ہر ایک سے محبت کی تو نے توحید کی اشاعت کی سلامت قبا قبا خلافت کی کی حفاظت تری جماعت کی گئی روشنی روشنی اجابت اجابت کی ہے سن لیا اس دعاؤں کو سن نے تیرے ناصر کو چن لیا اس نے دہرایا عہد بیعت کو آج ناصر کے ہاتھ پر نے ہمیں اسجدوا کا حکم پھر وفاؤں کو استوار کیا سوز دل سے اپنی کشتی کو آج ڈالا جھکایا ہے اپنا سر ہم نے ہے تازہ لہروں بے خطر ہم نے نے یوں در یار گرے آکر پر سر بنایا ہے سنگ در ہم نے اب کہاں ائی کو ہے جائے اماں یوں سمیٹے ہیں بحر و بر بر ہم نے و پیمان رسم الله ہائے دیار یار سے دور عہد میرے محبوب خوں رلاتی رہی کون سمجھے گا کون جانے گا خوشی جو وہ بھی جائیں گے کوئے یار کو ہم ساتھ جائے گی یاد بھی تیری جب کئے گی دوری منزل لے کے دارالاماں میں جائیں گے جو منتظر امانت دل کو اک سوز جستجو دیں وصیت ہوگی وہ گھڑی تیری ہے دی ہوئی تیری گے تری نہ بھولیں گے و راہ کیا گواه کیا میں بے کلی تیری زندگی کس طرح کئی تیری ہوسکی تیری