یادِ محمود ؓ

by Other Authors

Page 10 of 132

یادِ محمود ؓ — Page 10

10 10 22 نومبر 1965ء کی رات کو خواب میں اپنے نمکدہ میں حضرت اصلح الموعود کے ورود مسعود کے جمال افروز نظارے سے متأثر ہوکر آیا یہ کون خوش خرام مثل نسیم مشکبار غمکده حیات میں بس گئی نزہت بہار قصر تصورات میں دوڑ گئیں تجلیاں دیده و دل چمک اٹھے دیکھ رہا ہوں حسن یار مائل التفات ہے کون ادائے خاص سے ورد ہوا سکون زا۔روح کو مل گیا قرار غرق جمال ہوگئی ساری فضائے کائنات اے میرے ذوقِ انتظار۔کون ہے تجھ سا کامگار قلب ونظر کے روبرو آج وہی ہیں ہو بہو شکل وہ ماہتاب سی اور وہی چشم سحر کار آئینه جمال صدق۔مظہر حق و العلاء جور و جفا کے دام میں آئے ہوؤں کا رستگار دین ہدی کے درد مند اور وہ پسر ارجمند ہارے ہوؤں کا دستگیر روندے ہوؤں کا غمگسار کس کی مجال دیکھ پائے میکی نگہ سے اس طرف جیتے جی اس کے کر سکے دین محمدی پہ وار کس نے چرا لیا مگر دل کا سکون سرمدی نا گہاں رک گئی ہے کیوں نکہت ونور کی پھوار ہاے وہ منظر حسیں۔آہ وہ جلوہ ءِ جمال ظلمت پاس بڑھ چلی۔ٹوٹ گئے نظر کے تار آنکھ جو کھل گئی تو تھا لب مصرعه حزین آہ وہ آنکھ پھیر دی جس نے عنان روزگار (ثاقب زیروی) چمنستان دین احمد میں کاش کچھ پھول اور بهل سکتے میری عمر روال کے بدلے میں تجھ کچھ سال اور مل سکتے ( ثاقب زیروی)