یادِ محمود ؓ

by Other Authors

Page 118 of 132

یادِ محمود ؓ — Page 118

118 اے مثیل مسیح مسیح زماں ہو کہاں چاند سا منه لئے چھپ گئے ہو کہاں دیکھ سونی ہے تجھ بن یہ بزم جہاں چار ٹو کیسے پھیلی ہیں خاموشیاں چُپ شجر ہیں تو ہیں برگ بھی نیم جاں آج اُجڑا سا لگتا ہے یہ آشیاں کتنے غمگین ہیں آج پیر و جواں چشم پرنم ہے اور کٹ گئی ہے زباں گئیں ختم تاروں کی تابانیاں پیڑ گئی پھیکی پھیکی سی یہ چپ ہیں ربوہ کی دھرتی کے کون ومکاں جس طرف دیکھو ہے ایک ہو کا سماں ہو رو رہا ہے تری یاد میں قادیاں کہہ رہا ہے مرا رازداں ہے کہاں تیرے ہی دم قدم سے تھا روشن جہاں اب مگر کہکشاں چھا گیا ہے اندھیرا یہاں خوبیاں اس کی کیسے کروں میں بیاں میں بتاؤں تو بن جائے گی داستاں جب وہ آئے تو چھٹنے لگیں بدلیاں بادہ خواروں پہ ذرہ گلستاں بن گیا گل فشاں احمدیت سے جو لوگ تھے بد گماں چھانے لگیں مستیاں بلبلوں کو بھی آنے لگیں شوخیاں خاک میں ان کی ملنے لگیں ہستیاں