یادِ محمود ؓ — Page 119
119 چشمہ اسلام کا کر دیا پھر رواں چلتے چلتے گیا تھا جو رُک ناگہاں مدتوں سے جو تھے راز ہم نہاں کر دیئے آکے اس نے وہ ہم پہ عیاں اس کی خاطر دکھائے گئے وہ نشاں کہ معاند بھی کہنے لگے الاماں آسماں اس کی تقریر میں تھیں وہ جولانیاں گردشیں بھول جاتا تھا اس کو دیں اس زمانے نے گو تلخیاں کم نہ ہر گز ہوئیں اس کی سرگرمیاں دکھائیں کے چاک اب دکھائیں اپنی حیرانیاں اپنی چاک دامانیاں ویرانیاں ہے دعا تجھ سے آخر میں رب جہاں سن تو نالے میرے اور میری فغاں اتنے اونچے ملیں اس کو درجے وہاں کوئی کر بھی نہیں سکتا جس کا گماں اے خدائے سمیع اے مرے مہرباں سُن کہ اشکوں سے تر ہوگیا آشیاں آگے بڑھتا رہے اس کا یوں کارواں شادماں شادماں کامراں کامران ( مومنہ فرحت بنت چوہدری عبدالقادر صاحب ایگزیٹوانجینئر تونسہ بیراج)