یادِ محمود ؓ — Page 95
95 95 نور جان حضرت مهدی امام اتقیا مصلح موعود عالم صاحب فہم و ذکا فخر قوم و فخر ملت خادم دین متیں قادیاں کے بادشاہ حضرت امیر المومنیں اک نشان رحمت پروردگار کائنات لخت جگر مهدی موعود پاکیزه صفات ہر کہ و مہ کی زباں پر تیرا ذکر ضوفشاں ہوگئی حاصل تجھے واللہ حیات جاوداں عشق دین مصطفیٰ میں تو تڑپتا تھا مدام ذکر رب العالمیں تیری زباں پر صبح و شام عہد تیرا رحمت پروردگار بے چلوں کفر و باطل سامنے تیرے ہمیشہ سرنگوں تو نے دنیا میں کیا اسلام کا پرچم بلند ہوگئی ساری زمیں پر یورش شیطان بند نور سے بھر پور لے کر آستین زندگی گھس گئے ظلمت میں تیرے واقفین زندگی چل دیئے وہ ساتھ لے کے عشق رب ذوالمنن زندگی میں چھوڑ کر سود و زیان مال و تن جان کی بازی لگا کر غیر ملکوں میں گئے سینکڑوں رنج و مصائب ایک عرصے تک سہے احمدیت کا پیام جانفزا سب کو دیا ساری دنیا کو خدا کے نور سے روشن کیا کام تیرے تجھ کو زندہ تا قیامت کر گئے تیرے ذمہ ساری دنیا کی امامت کر گئے لطف گویائی کے مالک اے صحیح نکتہ داں آج بھی تڑپا رہا ہے تیرا انداز بیاں مرقد پر نور بھی دیکھی ہے مثل ماہتاب معمور تھی تیری حیات کامیاب عمر ساری یاد تیری دل سے جاسکتی نہیں موت تیرا نام دنیا سے مٹا سکتی نہیں لٹ گئی جب سامنے اپنے بہار زندگی نور ނ کس کو ہو گا شوق پھر اب اعتبار زندگی (عبدالحمید شوق)