یادِ محمود ؓ — Page 38
38 کتنا تیرے پیاروں کو تیرے نام کے ساتھ چلنا پھرنا فقط امام کے ساتھ ہم چلے تیرے ہر خرام کے ساتھ پر پورے اہتمام کے ساتھ عشق کامل کا حسن تام کے ساتھ میرے محمود ہم نے سیکھا ہے بیٹھنا اٹھنا آج رکنا پڑا ہمیں ورنہ جا فرشتے ہیں منتظر تیرے عرش بعد کے اتصال ہوا مدت تو کہ خود بھی ”نشان رحمت تھا جا ملا رحمت تمام کے ساتھ خلد میں اپنے آشیاں کو گیا کو گیا آسماں نقطہء (عبدالمنان ناہید) بھی نہیں گلستاں ہے وہی رونق وہ یار مہرباں گلستاں غم نہیں دل کا کچھ زیاں بھی نہیں رونق گھر زندگی صحن ہے اپنا کہ دست غربت ہے آشیاں ہے ہے میان بیم رجا ہے بھی بھی آشیاں اس قدر گراں بھی بھی نہیں نہیں نہیں نہیں بھی تیری موجودگی کا ہے احساس اور تو اپنے درمیاں تیرے حسن کا عکس فرق دونوں کے درمیاں بھی نہیں بھی نہیں آستاں اس کا آستاں ترا گرچہ وہ تیرا آستاں بھی نہیں ہے تیرا ناصر ہے قافلہ تیری راہ پر ہے رواں اور تو اپنے ہم عناں ہوک اک دل میں کسمسائی ہے آج پھر تیری یاد آئی ہے ( عبد المنان ناہید)