یادِ محمود ؓ — Page 20
20 20 جنوں کے ہاتھ سے آئے گی پھر شامت گریباں کی مگر اس طور سے اب چاک دامانی نہیں ہوگی کئی خورشید ابھریں گے ابھی آفاق مشرق پر مگر ان میں تیرے ماتھے کی تابانی نہیں ہوگی بہت بکھریں گے گیسو خوبروؤں کی جبینوں پر تمہاری زلف سی ان میں پریشانی نہیں ہوگی اسی محفل سے اٹھیں گے کئی آتش نوا، لیکن کسی کے نطق میں یہ شعلہ سامانی نہیں ہوگی تری آه شرر افشاں ستارے کر گئی پیدا ب غم اب اندھیروں کی فراوانی نہیں ہوگی شب فصیل شہر تک تو کھینچ لایا مہر تاباں کو گلی کوچوں میں ہے جو رات طولانی نہیں ہوگی بلا تخصیص کے بٹتی تھی تیرے دور میں ساقی کہیں رندوں کی قسمت میں یہ ارزانی نہیں ہوگی ہے نکل جاؤ تبسم ! جانب صحرا دل وحشی کی اب تم نگہبانی نہیں ہوگی (عبدالرشید تقیسم ایم اے)