یادِ محمود ؓ

by Other Authors

Page 120 of 132

یادِ محمود ؓ — Page 120

120 60 آٹھ نومبر کا دن اب بن گیا ہے یاد گار یاد جس کی آکے کر دیتی ہے ہم کو سوگوار ہر طرف تھا اضطراب اور مضمحل تھی چاندنی رات کے پردے میں پوشیدہ تھیں چند آہیں مری چاند بھی افسردگی سے جھانکتا تھا غرب سے روشنی تاروں کی مدھم پڑ رہی تھی کرب سے آفتاب اس روز بھی نکلا تھا پر اتنا اداس کوئی افسردہ سی بیوہ، ٹوٹ جائے جس کی آس روٹھ کر جاتا رہا اس وقت وہ فضل عمر جس کے آنے کی خدا نے پہلے سے دی تھی خبر تو نے اپنے عہد کو کس شان سے پورا کیا عمر بھر تو دوسروں کے درد میں شامل رہا درد دل سے تو نے جتنی خدمت اسلام کی ساری یہ قربانیاں شاہد ہیں تیرے نام کی تو نے پھیلایا جہاں میں ہر طرف اسلام کو ہم بھلا سکتے نہیں تیرے کسی بھی کام کو ہر طرف افسردگی ہے ہر طرف ہے اضطراب ارض ربوہ اب تمہاری یاد میں ہے سوگوار چشم پر نم ڈھونڈتی ہے تجھ کو اے فضل عمر جستجو میں تیری بھٹکی ہر طرف میری نظر موت نے چھینا ہے ہم سے جسم خاکی بالیقیں چھین لے وہ یاد بھی تیری یہ ممکن ہی نہیں تیرے جانے سے تری یادیں تو جاسکتی نہیں کارنامے اب تو تاریخیں بھلا سکتی نہیں اے خدا محمود کو تو قرب سے اپنے نواز روح اس کی رحمتوں سے اپنی تو کر سرفراز اب عمل کی اور ہم کو صبر کی توفیق دے! درد کے ماروں کو دل پر جبر کی توفیق دے! طیبہ صدیقہ جامعہ نصرت ربوہ )