وِرثہ میں لڑکیوں کا حصہ — Page 11
11 چوتھے نمبر پر لڑکیوں کو ان کے شرعی حق سے محروم کرنا بدترین قسم کا ظلم بھی ہے کیونکہ اس کے ذریعہ سے ایک کمزور جنس پر جو اپنی کمزوری اور شرم کی وجہ سے والدین اور بڑے بھائیوں کے سامنے زبان نہیں کھول سکتی ایک بھیانک قسم کا ظلم روا رکھا جاتا اور اسے اس کے مال سے محروم کر کے اس کا گلا گھونٹا جاتا ہے۔پانچویں نمبر پر یہ اکل بالباطل اور گویا حرام خوری میں بھی داخل ہے کیونکہ اس کے ذریعہ سے والدین اور لڑکیوں کے بھائی ایک ایسا مال کھاتے ہیں جو دراصل ان کا نہیں بلکہ اُن کی بیٹیوں اور بہنوں کا ہے اور وہ محض ٹوٹ مار یا دھوکے کے ذریعہ اس مال کے مالک بن جاتے اور جائز حقداروں کو محروم کر کے اُن پر قابض رہنا چاہتے ہیں۔چھٹے نمبر پر یہ اپنے خون اور اپنی نسل کی جنگ بھی ہے کہ ایک باپ کے نطفہ سے پیدا ہونے اور ایک صلب سے نکلنے والی لڑکیوں کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھا جاتا ہے کہ وہ گویا اپنے باپ کی بیٹیاں اور اپنے بھائیوں کی بہنیں ہی نہیں۔اور انہیں عملاً نیچ ذات کی لونڈیوں کی طرح سمجھا جاتا ہے حالانکہ دینِ حق ) تو وہ مبارک مذہب ہے کہ سچ سچ کے غلاموں کے لئے بھی آزادی کا پیغام لے کر آیا ہے۔الغرض لڑکیوں اور بیویوں کو ان کے جائز شرعی حق سے محروم کرنا ایک بہت بڑا گناہ بلکہ چھ گناہوں کا مجموعہ ہے اور بھاری ظلم میں داخل ہے۔اور