وِرثہ میں لڑکیوں کا حصہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 9 of 16

وِرثہ میں لڑکیوں کا حصہ — Page 9

9 جماعت کی بھاری اکثریت اس مقام کو حاصل نہیں کر لیتی اس وقت تک آپ کی اجتماعی ذمہ داری ہرگز ادا شدہ نہیں سمجھی جا سکتی اور لڑکیوں کو اُن کے جائز حق اور شرعی ورثہ سے محروم کرنا تو صرف ایک گناہ ہی نہیں بلکہ کم از کم۔سنگین گناہوں کا مجموعہ ہے۔سب سے اول نمبر پر یہ شریعت کا گناہ ہے کیونکہ اس میں خدا تعالیٰ کے ایک واضح اور صریح اور قطعی حکم کی نافرمانی لازم آتی ہے۔قرآن فرماتا ہے اور کن زور دار الفاظ میں فرماتا ہے کہ:- لِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْاَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَط نَصِيبًا مَّفْرُوضًان (النساء : 8) د یعنی لڑکیوں کے لئے ان کے والدین اور دیگر قریبی رشتہ داروں کے ترکہ میں سے خدا تعالیٰ نے معین حصہ مقرر کر رکھا ہے خواہ یہ تر کہ زیادہ ہو یا کہ کم ہو۔اور یہ خدا کی طرف سے فرض کیا ہوا حق ہے جو بہر حال لڑکیوں کو ملنا چاہئے۔“ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ کو اولاد کے معاملہ میں انصاف کا اتنا خیال تھا کہ ایک دفعہ ایک صحابی نے اپنے ایک لڑکے کو ایک گھوڑا ہدیہ دیا اور اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنانا چاہا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس