حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وصال

by Other Authors

Page 27 of 31

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وصال — Page 27

متصل صحیح حدیث ایسی پیش کرے جس میں میسج کے متعلق زندہ آسمان پر جانے یا زندہ آسمان سے اُترنے کے الفاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے ہوں تو اُسے انعام دیا جائے گا اور آج تک اس چیلنج کو کوئی نہیں توڑ سکا۔لہند خواہ مخواہ نزول کے ساتھ آسمان یا زندہ کے الفاظ جوڑ نا محض دھینگا مشتی ہے۔ہاں بے شک نہ دل کا لفظ موجود ہے لیکن نزول عربی زبان کا لفظ ہے۔قرآن ، احادیث ، لغت عرب میں ہر گنہ اس کا مفہوم آسمان سے اگر نا نہیں لیا جاتا۔بلکہ کبھی تو اعزاز کے لئے مہمان پر تنزیل کا اطلاق کیا جاتا ہے۔اور اکثر ہر وہ چیز جو خدا تعالے کے حکم سے زمین پر پیدا ہو اس پر بھی نزول کا لفظ بولا جاتا ہے خود قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- قَدْ أَنْزَلَ اللهُ إِلَيْكُمْ ذِكرَ الرَّسُولاً - الطلاق آيت : 1) یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف یاد کرا نے والا رسول بھیجا ہے " اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق نزول کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ہر کوئی جانتا ہے کہ آپ کا جسم آسمان سے نہیں اترا۔(٢) وَانزَلْنَا الْحَدِيدَ - (سورة الحديد : ۲۶) یعنی ہم نے لوہا اتارا۔حالانکہ لوہا کانوں سے نکلتا ہے۔(٣) قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا - (سورہ الاعراف : ۲۷) یعنی ہم نے تم پر لباس اتارا۔اس آیت میں لباس کے متعلق نزول کا لفظ استعمال ہوا۔حالانکہ لباس تو روٹی وغیرہ سے زمین پر تیار کیا جاتا ہے۔(٣) أَنْزَلَ لَكُمْ مِنَ الأنعام (سورة الزمر : ) ) (۴) یعنی خُدا نے تم پر چار پائے اتارہے۔