حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وصال — Page 25
YA ہے کہ اللہ تعالے کے کلام میں اور نبیوں کی اصطلاح میں رفع سے مراد رفع روحانی ہوتا ہے نہ کہ رفع جسمانی اور ظاہر ہے کہ رفع روحانی میں مسیح ناصری کی قطعا کوئی خصوصیت نہیں ہے باقی یہ بات جاننی ضروری ہے کہ اس آیت میں مسیح کے رفع کا کیوں ذکر کیا گیا۔تو آیت کے سیاق و سباق سے پتہ چلتا ہے کہ یہودیوں کے زعم میں سیخ صلیب پر مر گئے تھے اور توریت کی رو سے و وہ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ جو نبی صلیب پر مرے وہ لعنتی اور جھوٹا ہوتا ہے لیے لہذا اس کی روح ناپاک ہوتی ہے۔اور اس کا خدا تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور اس کا رفع نہیں ہوتا۔اس طرح بود سیح کا نعوذ باللہ ملعون اور کا ذب ہونا ثابت کرتے تھے ان کے اس دعوی کے جواب میں اللہ تعالٰے نے فرمایا :- وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِن شُبِّهَ لَهُمْ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِيْنَا بَلْ تَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ" (سورہ النساء : ۱۵۸) یہود نے نہ تو مسیح کو قتل کیا۔اور نہ ہی صلیب پر لٹکا کر مارا بلکہ اصل میں واقعہ یہ ہوا کہ مسیح ان کی نظروں میں مشابہ بالمقتول والمصلوب بنا دیئے گئے۔۔۔مگر وہ ہرگز مسیح کے مارنے پر قادر نہیں ہوئے بلکہ مسیح کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا۔یعنی اللہ تعالیٰ نے اُن کے جھوٹے عقیدہ اور غلط نتیجه کارت بیان کیا کہ تمہارا یہ خیال کہ مسیح صلیب پر سے لہذا ملعون ہوئے اور اُن کا رفع الی اللہ نہیں ہوا۔غلط ہے میں ہرگز ملعون ہو کر صلیب پر نہیں میرے بلکہ وہ طبعی موت مرے اور انکی روح خدا کے مقرب بندوں کی طرح عربیت کے ساتھ اُٹھائی گئی۔واقعہ صلیب یہاں قبل طور پر ہم عرض کئے دیتے ہیں کہ واقعہ لیہ کے متعلق بہت سا اختلاف چلا آتا ہے۔له -: - گلتیون باب ۳ آیت ۱۳ (انجیل مقدس )۔بائیبل سوسائٹی انار کلی لاہور :