حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وصال

by Other Authors

Page 9 of 31

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وصال — Page 9

یعنی متونیت کے معنے مميتكَ ہیں۔یعنی میں تجھے وفات دوں گا۔تیسرا اگر متو نيك كا معنی سارے کا سارا اٹھانا ہے تو اس آیت میں کرا فعلت کا لفظ مہمل اور بے فائدہ ماننا پڑتا ہے۔چوتھے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے لفظ توئی پر ایک چیلنج شائع کیا ہے اور اس پر بھاری انعام مقرر کیا ہے۔جس کا جواب آج تک دنیا کا کوئی عالم نہیں دے سکا۔اور وہ یہ ہے:۔" جب خدا فاعل ہو اور صرف انسان مفعول بہ ہو تو تونی کے معنے سوائے قبض روح کے ہر گز اور کوئی نہیں ہو سکتے۔اے پانچویں آیت : - اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :۔وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ أنتَ الرَّحِيْبَ عَلَيْهِم (سورہ المائده ع ۱۶ آیت (۱۸) ترجمہ : اور تھائیں ان پر گواہ جب تک ان کے اندر رہا۔پس جس وقت تو نے مجھے وفات دی تو پھر تو ہی ان کو دیکھنے والا تھا۔استدلال :- یہ ٹکڑا ایک لمبی آیت کا ہے اس سے پہلے یہ مضمون ہے کہ اللہ تعالے قیامت کے دن عیسی بن مریم سے پوچھے گا کہ کیا تو نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ تم مجھے اور میری ماں کو دو خدا مانو اللہ کے سوا ؟ تو اس پر حضرت عیسیٰ جواب دیں گے ” پاک ہے تیری ذات مجھے زیبا نہیں کہ کہوں وہ بات جس کا مجھے کوئی حق نہیں۔اگر میں نے کوئی ایسی بات کہی ہے تو تو اُسے جانتا ہے۔تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے لیکن میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے ے ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۲ :