حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وصال

by Other Authors

Page 3 of 31

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وصال — Page 3

ہم یہاں تو آیات قرآنی اور چار احادیث نبویہ اور پانچ امت کے اکابر کی شہارات پیش کرتے ہیں۔جن کی رو سے وفات مسیح کا مسئلہ بالکل واضح ہو جاتا ہے۔اور آخر میں اس مسئلہ کے سمجھنے میں جو شبہات اور رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں ان کا ازالہ بھی کریں گے۔قرآنی دلائل پہلی آیت :۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :- وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمُ (ال عمران : ۱۳۵) ترجمہ :۔اور نہیں محمد مگر رسول۔یقیناً فوت ہو گئے آپؐ سے پہلے تمام رسول کیا پس اگر وہ مرگئے یا قتل ہو گئے تو تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے ؟ استدلال :۔یہ آیت صاف طور پر بتاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے گذرے :- ہوئے سب نبی فوت ہو چکے ہیں اور ظاہر ہے کہ مسیح ناصری بھی ایک رسول تھے جو چھ سو سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے مبعوث کئے گئے تھے۔پس لامحالہ ماننا پڑتا ہے کہ وہ بھی اس آیت کی رو سے فوت ہو چکے ہیں۔سوال :- اگر کوئی اعتراض کرے کہ لفظ قد خَلَتْ کا ترجمہ ہے گزر گئے نہ کہ قوت ہو گئے، تو اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ لغت عربی کی مستند کتاب تاج العروس میں لکھا ہے کہ خَلافُلَانُ : إِذا مات یعنی فلاں شخص گذر گیا کا معنی ہے وہ فوت ہو گیا۔(دوسرا) مرزا صاحب سے پہلے مسلمان بزرگوں نے بھی اس کے معنے وفات دینے ہی کے کئے ہیں۔چنانچہ مشہور عالم دین حافظ محمد صاحب لکھو گے والے اپنی تفسیر محمدی میں اس آیت کے تحت لکھتے ہیں :۔