واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 82 of 142

واقعات صحیحہ — Page 82

۸۲ لکھا کہ تبلیغ کو پڑھ کر مجھے ایسا تو وجد ہوا کہ میرے جی میں آیا کہ سر کے بل رقص کرتا ہوا قادیاں تک آؤں۔غرض حضرت مرزا صاحب کی تحریر و تقریر دونوں قلوب پر لا زوال سکہ بٹھا چکی ہیں اور تلخ سے تلخ دشمن بھی اعتراف کر رہے ہیں کہ آپ واقعی سلطان القلم ہیں۔اب میں پوچھتا ہوں کیا یہ ملاحظات تقاضا نہیں کرتے تھے کہ پیر صاحب پے در پے دھڑلے کی ریریں کرتے اور لوگوں کو یقین دلا دیتے کہ وہ واقعی اپنے کام اور کلام سے زمانہ کی ضروریات کو پورا کر سکنے والے ایک مشہور مدعی سے افضل یا اقلا ہم پلہ ہیں اور وہ یگانہ خصوصیتیں جو اس مدعی کی مایہ ہیں اور جنہیں ہاتھوں پر اٹھا کر وہ ایک عالم پر سر مباہات بلند کر رہا ہے پیر صاحب کی اس کارروائی سے مشترک اور آخر کار معمولی اور لغو ٹھہر جاتیں۔سکوت پیر صاحب کا اُس وقت قابل عذر تھا کہ نہ تقریر کے لئے کوئی اُسوہ قرن اول اور سلف صالحین میں ہوتا اور نہ طبائع میں پر زور فطری میلان اُس کی طرف ہوتا۔بڑے بڑے خدا ترس درویشوں نے جنہوں نے دنیا میں اسلام کی تبلیغ کی خدا کی معارف کی تقریروں سے غیر قوموں کو شیدا و والہ بنایا اور اُس مقدس وادی میں اب تک اُن کے زندہ آثار موجود ہیں۔امرتسری صاحب کس قدر نا انصافی اور حق پوشی کی راہ سے کہتے ہیں کہ پیر صاحب نے توجہ سے کام لیا اُن کو تقریر کی حاجت ہی کیا تھی۔دراصل ہر ایک ذی فہم زیرک سمجھ سکتا ہے کہ وہ اُس کچی دیوار کو بہا لے جانے والی رو کے مقابل اس عذر خام سے پشتہ لگاتے ہیں مگر یاد رکھیں کہ سب طبائع انہی کے خمیر سے مر نہیں کی گئیں بہت جلد زمانہ کے پُر طلاطم موجوں کے تھیٹروں سے یہ پشتہ ٹوٹ جائے گا اور دیوار اور صاحب دیوار نسیان کے خون آشام موجوں کا طعمہ بن جائیں گے۔اب میں امرتسری صاحب کی خدمت میں ایک واقعہ عرض کرتا ہوں۔اگر وہ واقعی حق طلب ہیں اور تعصب کا جن اُن کے سر پر سوار نہیں تو ایمان داری سے اس کا جواب دیں گے اور کوئی مضائقہ نہیں کریں گے خواہ انہیں ضد و تعصب سے مانی ہوئی طرف چھوڑنی ہی پڑے۔سنئیے لاہور میں عام لوگوں نے بلکہ پیر صاحب کے مخلص مریدوں نے بار بار اصرار اور الحاح سے اُن کی خدمت میں گزارش کی کہ آپ تقریر کریں اور اس عجیب خدا داد موقعہ کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔مگر پیر صاحب نے نہ مانا۔منشی نظام الدین صاحب فنانشل سیکرٹری