واقعات صحیحہ — Page 76
پیر صاحب کا کاغذ سادہ کا سادہ رہ جاوے گا اور خلاف وعدہ مرزا صاحب کو وقت پر قادیاں میں روک رکھا۔افسوس یہ کہ لوگ خدا تعالیٰ کی سنتوں اور انبیاء علیہ السلام کے منہا جوں سے کس قدر دور جا پڑے ہیں۔کوئی تیر اپنے ترکش سے نکال کر حضرت مرزا صاحب کی طرف نہیں چلاتے جو سیدھا خاتم الانبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سینے میں جا کر پیوست نہ ہو جائے کہ ظل اور اصل میں پوری مناسبت اور اتحاد ہے۔امرتسری صاحب کیا اسے ضروری قرار دیتے ہیں کہ پیشگوئی اسی صورت میں پوری ہوتی کہ پیر مہر شاہ صاحب مقابلہ کرتے اور مقابلہ میں خزی او خذلان اُن کو چاروں طرف سے گھیر لیتا اور دیگر کوئی صورت پیشگوئی کے پورا ہونے کی نہ تھی۔بہت خوب تو بتاؤفَا تُو بِسُورَةٍ مِّنْ مِثْلِهِ " (البقرة:24) ياتون - فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوا وَ لَنْ تَفْعَلُوا۔۔الآيه (البقرة: 125) اور قُل لَّئِن اجتمعت الجنّ وَالْإِنس عَلى ان ياتوابمثل هذا القرآن لا بمثله ولو كان بعضهم لبَعْضِ ظَهِيراً۔یہ زبر دست تحدیاں پیشگوئی کے رنگ میں ہیں یا نہیں اور یہ پورے معنوں میں پوری ہوئیں یا نہیں۔کیا کسی تاریخ اور حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ کوئی کتاب عرب کے فصحاء قرآن کے مقابل بنا کر لائے۔کیا کبھی جن و انس کی کمیٹی کہیں بیٹھی اور وہ اجتماعی مشورہ اور طاقت سے قرآن کے مقابل کوئی سورت تیار کر کے لائے اور بالآخر مقابلہ اور موازنہ سے واضح ہوا کہ قرآن خدا کا کلام ہے۔یا د رکھو مقابلہ کر کے ذلیل رسوا ہونا یا خود مقابلہ ہی میں نہ آکر داغ عارجین مردمی پر لگانا ایک ہی بات ہے۔مردمی اور حمیت اور ناک بہر صورت اسی کی مقتضی ہوتی ہے کہ حریف مدعی سے جو ہر طرح کی ہتک کر رہا ہے مقابلہ کیا جائے۔با ایں ہمہ صرف الوجوہ اگر شکست اور خذلان کی دلیل نہیں تو اور کس کی ہے۔مباہلہ کا واقعہ بڑا عظیم الشان واقعہ ہے اور اس بات کی قوی سے قوی دلیل ہے کہ حضور رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی حقیقت اور منجانب اللہ ہونے کا کس قدر واثق اور کامل شعور تھا اور آخر کا رنصرانیت کے مقابل یہ فیصلہ بھی کامل دلیل ٹھہر گیا اس بات کی کہ اسلام منصور اور موید مذہب اور نصرانیت مخذول طریق تھا اور اُس کے حامیوں کو آسمان سے کوئی لگاؤ نہ تھا۔مگر کیا مباہلہ واقع ہوا۔کیا اُن نصرانیوں کا حق کی پر شوکت اور زہرہ گداز