واقعات صحیحہ — Page 77
22 ނ آواز سے مرعوب ہونا اور جی چھوڑ دینا ہی آخری فیصلہ اسلام کے حق میں ٹھہر نہیں گیا۔اصل بات یہ ہے کہ امرتسری صاحب اور آپ کے مثیل و ہم مشرب پیش گوئی کے سائنس۔واقف نہیں۔پیش گوئی جو ایک صادق علی بصیرة مدعی کی طرف سے ہوتی ہے اُس کے منہ سے نکلتے ہی اپنے ساتھ ساتھ ایک لشکر جرار ملائکہ اور سماوی طاقتوں کا لاتی ہے اور ادھر اُدھر اور آگے پیچھے سے ہر قسم کی رکاوٹوں اور دراندازوں کو ہٹاتی ہوئی اور پامال کرتی ہوئی سیدھی اپنی غرضوں اور ہدفوں پر جالگتی ہے۔جس طرح بجلیاں ہوا کو صاف کرتیں اور زہریلے مواد کو جلا دیتی ہیں پیش گوئی کے الفاظ جس میں رعد و برق کی خبر مرکب ہوتی ہے حریف کے مصنوعی زور اور قوۃ قلبی کو کچل ڈالتے ہیں۔وہ جو پہلے اپنی قوم میں مرد کہلاتا اور لاف و طامات میں گردن بلند کرتا تھا اُس ہیبت ناک گرج کے بعد بزدل اور پورا نا مرد بن جاتا ہے۔اور وہ جو اپنے حلقہ میں بڑالستان منطیق اور المعی لو ذھی کہلاتا تھا اُس آتشیں تلوار کی ایک ہی چمک سے اُس کی زبان میں سینکڑوں بیچ پڑ جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان قرآنی تحدیوں کا اگر چہ معارضہ نہیں کیا گیا اور ممکن ہے کہ اندر ہی اندر بہتوں نے منصوبے کئے ہوں اور صادق مدعی کے توڑنے کی ان تھک کوشش کی ہو اور ممکن ہے کہ ہار کھائے ہوئے دشمنوں کی اولادیں گزشتہ ذلتوں اور نا مرادیوں کا انتقام لینے کے لئے اب بھی اندر ہی اندر تڑپتی ہوں مگر با ایں ہمہ یہ تحدیاں اسلام کی صداقت پر براہین قاطعہ اور نج ساطعہ ٹھہر گئیں۔اسی طرح اور ٹھیک اسی طرح حضرت مرزا صاحب نے تفسیر نویسی کی دعوت کے ساتھ معاً بلا فصل یہ تحدی بھی کر دی کہ پیر مہر شاہ صاحب مقابلہ نہیں کر سکیں گے اور سخت ذلت کی مار اُن پر پڑے گی۔حضرت مرزا صاحب بشریت محض کے لحاظ سے ضعیف القویٰ اور محمد ود العلم انسان اور نیچر کے پُر زور انقلابات کے احاطہ میں اور لوگوں کی طرح محصور و محاط ہیں۔یہ شوکت اور صولت جو اُن کے الفاظ میں ہے اور یہ غیب کی پُر سطوت آواز جو اُن کے منہ سے نکلی ہے اگر کسی واسع علیم اور قادر مطلق اور مدبر متصرف ہستی کی آواز اور الفاظ نہیں تو کیوں عادتاً ان سے اُسی جنس کے رعب اور زلزلہ کی بارش برس رہی ہے جیسے اس قسم کی تحدی کرنے والوں کی زبان والفاظ سے واقع ہوتی رہی ہے اور کیوں اس آواز نے آتشیں گولے کی طرح حریف کا کام تمام کر دیا اور حرکت مذبوحی تک بھی تو اس سے ظاہر نہ ہوئی۔اس