واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 60 of 142

واقعات صحیحہ — Page 60

مالک کارخانہ ہمدم صحت۔با بوسیف الملوک صاحب کلرک۔مستری دین محمد صاحب۔میاں غلام حسین صاحب کلرک۔میاں گل حسن صاحب کلرک۔مولوی عبد العزیز صاحب مدرس۔میاں قمر الدین و امام دین صاحبان زرگر - خواجہ عزیز الدین صاحب سوداگر - منشی چراغ دین صاحب ایجنٹ۔منشی امام بخش صاحب مہتمم کارخانہ دریاں۔مولوی سردار خاں صاحب (برادر مولوی محمد علی بھو بڑی ضلع گوجرانوالہ واعظ ) خلیفہ ہدایت اللہ صاحب مشہور شاعر لاہور۔ماسٹر ولی اللہ صاحب۔ماسٹر شیر محمد صاحب۔میاں مولا بخش صاحب سوداگر ریشم خلف میاں محمد چٹو صاحب۔شیخ کرم الہی صاحب سوداگر۔میاں سلطان بخش صاحب ٹیلر ماسٹر و کلاتھ مرچنٹ۔میاں کریم بخش صاحب رفوگر۔مولوی عبید اللہ صاحب۔منشی فروزالدین صاحب سیکرٹری انجمن معین المسلمین۔منشی کرم الہی صاحب ( راقم محمد صادق کلرک دفتر اکونٹنٹ جنرل پنجاب لاہور ) پیر کمال شاہ صاحب ساکن کاٹھیاوار علاقہ گجرات۔میاں محمد حسین صاحب کمپونڈر۔ڈاکٹر شیخ عبداللہ صاحب۔بابو رحمت خاں صاحب کلرک سٹیشنری۔منشی عبداللہ صاحب کمپازیٹر۔میاں امام الدین صاحب قصاب۔خلاصہ کلام خلاصہ کلام یہ ہے کہ مہر شاہ نے پہلے خود حضرت مرشد نا و مهدینا مسیح موعود و مهدی معہود کے عقیدہ وفات مسیح کے برخلاف دو کتابیں لکھیں۔پھر جب ایک کتاب کے متعلق کچھ سوال کئے گئے تو کتاب کے لکھنے سے ہی انکار کر دیا پھر جب وہ خط شائع ہوا تو مریدوں کو یوں تسلی دی کہ میں نے تو صرف مؤلف ہونے سے انکار کیا ہے۔پھر جب حضرت مرزا صاحب کے خادموں نے بیماروں کے حق میں قبولیت دعا کے ساتھ فیصلہ کرنے کے لئے مخالفین کو اپنے امام کے مقابلہ میں بلایا تو مہر شاہ کے خاص مریدوں نے مل کر ایک اشتہار دے دیا کہ ہماری دعا قبول نہیں ہوتی مرزا صاحب یک طرفہ نشان دکھائیں اور اس طرح اس بات کا اقرار کیا کہ ہمارا پیر ایک مومن ہونے کی حیثیت بھی نہیں رکھتا کیونکہ خدا خصوصاً کافر کے مقابلہ میں مومن کی دعا کو خود قبول کرتا ہے پھر جب مرزا صاحب نے مہر شاہ کو تفسیر