واقعات صحیحہ — Page 59
۵۹ نکال دیا اور آپ غار میں جا چھپے اور اُس وقت کفار مسلمانوں کو کس طرح سے طعن دیتے تھے کہ کیوں کہاں گیا تمہارا نبی جو دعوی کیا کرتا تھا کہ میری فتح ہو گی۔اور میرے دشمن مغلوب ہوں گے۔آج اُس کی شکل تو دکھاؤ۔اُسے ہمارے سامنے لاؤ۔غرض اس طرح برگزیدگان خدا کے مخالفین کو ایک آنی خوشی پھولنے کے واسطے مل جاتی ہے۔پر بہت جلد اُن کا پردہ فاش ہو جاتا ہے۔اور خدا کے نزدیک انجام صادق کا ہے۔اور آخر صادق کامیاب ہو گا۔غرض حضرت مرزا صاحب کے منشاء کے موافق ہمارے احباب نے نہایت صبر اور استقامت اور بزرگانہ وقار کے ساتھ یہ سب کچھ دیکھا اور سنا اور مخالفین کی طرح کوئی سفلکی اور شرارت اور مفسدہ پردازی اور تمسخر سے کام نہ لیا۔بڑے حوصلہ اور امن کے ساتھ اپنے اشتہارات شائع کیسے اور گولڑوی کو بار بار مقابلہ میں سیدھی طرح آنے کے واسطے دعوت کی۔میں اس جگہ لاہور کے احباب کے نام جنہوں نے ان واقعات کو جو میں نے لکھے ہیں بچشم خود دیکھا یا موقع پر سنا اور اس وقت یہاں پر موجود تھے لکھ دیتا ہوں کیونکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے حالات پر شاہد بنایا ہے اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی ہمت ، استقامت ، یگانگت میں برکت عطا فرمائے۔اور خدمات دینی کی ادائیگی میں ان کو توفیق زیادہ سے زیادہ عطا فرما دے۔آمین ثم آمین۔۔اور اُن احباب میں سے اکثر کے نام یہ ہیں۔منشی تاج دین صاحب کلرک منشی مولا بخش صاحب کلرک۔حکیم محمد حسین صاحب قریشی مالک کارخانه رفیق الصحت۔میاں احمد دین صاحب ڈوری باف۔میاں معراج الدین عمر صاحب ٹھیکیدار۔میاں سراج الدین صاحب ٹھیکہ دار۔میاں چراغ دین صاحب رئیس لاہور۔میاں محمد شریف صاحب متعلم مشن کالج۔میاں مہر بخش صاحب دوکاندار۔حکیم فضل الہی صاحب۔میاں عبد العزیز صاحب رئیں۔حکیم محمد حسین صاحب ما لک کارخانہ مرہم۔حکیم سید عبداللہ صاحب عرب۔خلیفہ رجب دین صاحب تاجر۔صوفی محمد علی صاحب کلرک ریلوے۔شیخ رحمت اللہ صاحب تاجر بمبئی ہاؤس۔ڈاکٹر قاضی غلام حسن صاحب ہاؤس سرجن۔حافظ فضل احمد صاحب کلرک۔حافظ علی احمد صاحب کلرک۔صوفی محمد عظیم صاحب کلرک۔مولوی غلام حسین صاحب متولی و امام مسجد گئی۔بابو غلام محمد صاحب کلرک۔شیخ کرم الہی صاحب گھڑی ساز۔منشی جمال الدین صاحب کا تب۔ڈاکٹر حکیم نور محمد صاحب