واقعات صحیحہ — Page 58
۵۸۔پہچانا جاتا ہے۔اے زمانہ کے تاریخ دانوں اور اے بزرگوں کے قصوں سے واقف کا رواُٹھو اور سنو ہم نے تمہیں ایک قوم کا قصہ سنایا ہے اور اُس کی حرکات تمہارے سامنے پیش کی ہیں تم پنے علم کے مطابق فیصلہ کرو کہ اس قسم کے حرکات کی نظیر اگلی تاریخوں اور گزشتہ نبیوں کے قصوں میں تم کن لوگوں میں پاتے ہو۔کیا اُن میں جنہوں نے موسیٰ کا ساتھ دیا یا اُن میں جنہوں نے موسیٰ کے ساتھ تمسخر کیا۔کیا اُن میں جنہوں نے حضرت موسیٰ کی تابعداری کی یا اُن میں جنہوں نے شور و غوغا مچا کر اور لمبے لمبے ہاتھ پھیلا کر پلاطوس کو کہا کہ اسے صلیب دے اس کا گناہ ہم پر اور ہماری اولاد پر۔اے اہل دانش لوگو سوچو کہ جو کام ہمارے مخالف کر رہے ہیں کیا یہ اُن لوگوں کے کام ہیں جو آمنا و صدقنا کہہ کر صدیق کہلائے یا اُن کے جو بارہ کوس تک پتھر مارتے ہوئے اُس فخر دو عالم حبیب خدا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پیچھے دوڑے۔اے اہل دل غور کرو کہ یہ چال چلن کیا منصور اور شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمۃ اور اُن کے ساتھیوں کا تھا یا اُن کا جنہوں نے اُن پر کفر کا فتویٰ لگایا اور کسی کو صلیب دیا اور کسی کو سخت عذاب۔دنیا میں ہر ایک شے اپنے پھل سے پہچانی جاتی ہے۔اگر تیرے خوشے میں جو کے دانے نکل آئے ہیں تو کوئی تجھے گندم نہیں کہہ سکتا۔پس چاہئے کہ ہر ایک سوچے اور غور کرے کہ وہ کس راہ پر چلا جا رہا ہے۔اور جان لے کہ اُس کا انجام وہی ہو گا جو اُس سے پہلے ایسی حرکات کرنے والوں کا ہوا۔فیوض المرسلين ایسے وقت میں ہم کو ہمارے امام مسیح موعود و مہدی معہود کی طرف سے کیا ارشاد تھا جس پر ہم نے عمل کیا۔وہی جو نبیوں اور ولیوں کی سنت ہے کہ اَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِين۔جاہلوں شرارت کرنے والوں کی بات سن کر خاموش رہو اور اُن سے اعراض کرو۔اور صبر سے کام لو۔کسی کو گالی کے بدلے میں گالی نہ دو اور جو تمہارے حق میں بد بولے اس کے حق میں تم بد نہ بولو تا ایسا نہ ہو کہ خلقت کی لعن طعن سننے کے علاوہ تم خدا کو بھی ناراض کر بیٹھو تحمل اور بردباری اور صبر کے ساتھ ان دنوں کو گزار دو اور جو آرام اور آہستگی کے ساتھ سمجھنا چاہے اُسے سمجھاؤ۔اور اُس وقت کو یاد کرو جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کفار نے مکہ سے