واقعات صحیحہ — Page 39
۳۹ کیوں اپنے پیر صاحب سے صاف الفاظ میں یہ اشتہار نہیں دلواتے کہ ہمیں حضرت مرزا صاحب کے اشتہار کے مطابق بلا کمی و بیشی تفسیر القرآن میں مقابلہ منظور ہے۔اور اگر چہ بموجب دعوت حضرت مرزا صاحب وہ تاریخ گزر چکی ہے۔جس تک کہ پیر گولڑوی کی طرف سے قبولیت کا خط آنا چاہئے تھا مگر ہم تیار ہیں کہ اب بھی اگر وہ مان جاویں تو دوبارہ مناسب تاریخ مقرر کی جاوے اور جلد فیصلہ بھی ہو جاوے۔حضرت اقدس مرزا صاحب تشریف لاویں۔ورنہ حضرت مرزا صاحب کا یہ طریق نہیں ہے کہ سلسلہ پیری مریدی کے صیغہ کلکٹری میں منزل بہ منزل دورہ پر چڑھیں۔اور ہمارا کچھ ہرج نہیں۔اگر پیر صاحب اپنے پرانے طریق کے موافق دورہ کرتے ہوئے لاہور بھی تشریف لاویں۔لیکن ہم تو یہ عرض کرتے ہیں کہ روپیہ سوا روپے کی نذروں سے کیا بنتا ہے۔پیر صاحب ایسی تجویز کرتے کہ ہمارے ہزار روپے کی نذر جس کا مفصل ذکر ہم نے اپنے اشتہارات مؤرخہ ۱۹ ۲۰۔اگست میں کیا ہے قبول کر سکتے اور ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ وہ ہرگز ایسا نہیں کر سکیں گے۔اس لئے افسوس ہے کہ اُن کا لا ہور آنا کسی نیک کام کے لئے نہ ہو گا۔کاش کہ وہ حضرت مرزا صاحب کی دعوت مقابلہ کو منظور کر لیتے اور فیصلہ ہو جاتا۔والسلام علیٰ من اتبع الهدی - ۲۴۔اگست ۱۹۰۰ء المشتهر حکیم فضل الہی (پریزیڈنٹ ) و معراج الدین ( جائنٹ سیکرٹری ) انجمن فرقانیہ لاہور جب اس اشتہار کا جواب ہمیں پیر صاحب کی طرف سے سوائے خاموشی کے کچھ نہ ملا تو پھر ہم نے چوتھی تجویز یہ کی کہ چند آدمی دستی خط دے کر پیر صاحب کی خدمت میں بھیج دیں۔شاید پیر صاحب یہ اقرار کر لیں کہ ہم کو مرزا صاحب کے ساتھ مقابلہ تفسیر میں منظور ہے تو فیصلہ ہو جاوے۔ہمارے اس خط کو لے کر میاں عبدالرحیم صاحب داروغہ مارکیٹ (جو کہ مرزا صاحب کے مرید نہیں ہیں ) بمع دو اور آدمیوں کے پیر صاحب کی خدمت میں نماز ظہر کے وقت پہنچے۔جس کے جواب میں پیر صاحب نے فرمایا کہ ہم اس کا جواب عصر کے بعد دیں گے۔مگر جب پانچ بجے داروغہ صاحب گئے تو وہاں پہلے سے یہ انتظام کیا گیا تھا کہ داروغہ