واقعات صحیحہ — Page 127
۱۲۷ کس قدر غلبه فسق و فجور کا اس وقت ہوگا اور دیانت امانت تقویٰ اور صدق اور خدا شناسی کا نشان مٹ چکا ہوگا۔قرآن نے بتایا کہ آخری زمانہ کی یہ نشانیاں ہونگی کہ نہریں نکال کر دریا خشک کئے جائیں گے۔پہاڑ اڑائے جائیں گے۔مطابع اور ڈاک خانے اور ریل گاڑی اور تار برقی پھیل جائے گی اور دنیا کے آپس میں تعلقات بڑھ جائیں گے۔غرض قرآن کریم نے صاف صاف اس وقت اور اس کی زہروں کے پتے دئے اور ساتھ ہی اس طاعون کے علاج کے مجرب نسخے بتائے یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وجود کی خبر دی جس کے لئے مقدر تھا کہ ایسے فتنوں کے استیلاء کے وقت آئے اور فتنوں کی جڑ کو کاٹ دے۔اب کوئی مومن ہے جو ایسا اعتقاد کرے کہ خدا کی کتاب نے اپنے سارے نظام اور سیاق میں فتنہ نصاری کی خبر تو دی ہے مگر کسی ایسے وجود کی خبر نہیں دی جو ان فتنوں کی آگ پر پانی ڈالنے والا ہو۔پھر تو یوں کہنا ہوگا کہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ اور تمام مومنین کو یہ زہرہ گداز خبر تو سنا دی کہ ان سب کا رروائیوں کو ملیا میٹ کرنے والا ایک گرو ایک زمانہ میں پیدا ہوگا جن کے لئے تم جانیں دے رہے ہو اور جن کے لئے قرآن کریم نازل ہوا ہے مگر افسوس اس وقت کوئی چارہ گر اور غم گسار اسلام و مسلماناں کا نہ ہوگا۔اس وقت سخت آندھیاں چلیں گی اور فتنوں کی آگ برسے گی اور اسلام کے لئے کوئی حصن حصین اور مادی و ملجا نہ ہوگا۔ایسا اعتقاد کرنا خدا تعالیٰ اور اس کے کلام کی سخت آبرو ریزی اور فی الحقیقت دہریت کی جڑ ہے۔سخت افسوس کے قابل وہ لوگ ہیں جنہوں نے نصاری کے اعتقاد ( ولد رحمن اور کفارہ) کو اور اس اعتقاد کے استیصال کے لئے مباحثات کو غیر ضروری اور فضول سمجھا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے قلوب نے اس خدا کے برگزیدہ کی عظمت شان کو قبول نہیں کیا جس کی فطرت میں اس زہر یلے اعتقاد اور اس کے مواد کے ازالہ کا فوق العادت جوش ڈالا گیا ہے۔ایک بات یاد آگئی ایک روز حضرت کا سر الصلیب فرماتے تھے اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کس قدر جوش مجھے نصرانی مذہب کے استیصال کے لئے ہے بس اس کو ان لفظوں میں ہی ادا کر سکتا ہوں کہ مجھے اس اعتقاد کی تباہی کے لئے اتنا ہی جوش ہے جتنا خود خدا کو ہے۔میں نے یہ سن کر بڑے جوش سے کہا کہ تیرے صدق کی یہی ایک نشانی بس ہے کہ خدا کے لئے خدا کے دین کے لئے۔اس کے رسول پاک ﷺ کے لئے ، اس کی توحید