واقعات صحیحہ — Page 3
ہوئی وہ امام مہدی کے حالات پر بھی وارد ہو وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللهِ تَبْدِيلاً ابتدائے معاملہ (الاحزاب : 63 ) مخالفین اور مکذبین کی کارروائیوں کی مثال میں اس وقت ہم لاہور کا تازہ واقعہ بیان کرتے ہیں جس میں کیا سجادہ نشینوں اور کیا مولویوں نے مل کر اپنے افعال اور اپنے اقوال سے یہ ثابت کرا دیا ہے اور ایک گواہی دلا دی ہے کہ در حقیقت اس وقت امام کی ضرورت ہے۔اس واقعہ کی ابتدا اس طرح ہوئی ہے کہ چونکہ دوسرے پیروں اور ملانوں کی حرکات سے نفرت کھا کر اور اُن کے اس قسم کے مسائل کو بے ہودہ اور لغو سمجھ کر کہ خونی مہدی آئے گا اور تمام عیسائی وغیرہ بادشاہوں کو قتل کر ڈالے گا۔اکثر فہیم اور دانا لوگ حضرت مسیح موعود امام زمان کے پاک سلسلے میں داخل ہوتے جاتے ہیں تو پرانے علماؤں اور گدی نشینوں کو اپنی آمدنیوں میں گھاٹا پڑنے کا خطرہ پڑ گیا اور ان لوگوں نے حماقت سے امام کی مخالفت شروع کی۔اس زمرے میں ایک مہر علیشاہ صاحب گولڑ وی بھی ہیں جن کو بسبب اپنے پرانے ارادت مندوں کے اُن سے نفرت کرنے اور حضرت مرزا صاحب کے ساتھ اخلاص پیدا کر لینے کے یہ جوش آیا کہ ایک کتاب مرزا صاحب کے برخلاف لکھیں۔یہ کتاب پیر صاحب نے حیات مسیح کے ثابت کرنے میں لکھی اور اُس میں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی حضرت مرزا صاحب کا عقیدہ وفات مسیح کے متعلق غلط ہے۔اوّل تو اس کتاب کی عبارت ایسی غیر سلیس اور موٹے لفظوں سے بھری ہوئی ہے اور ترکیب فقرات ایسی بے ہودہ اور طرز بیان ایسا لغو ہے کہ سمجھدار لوگوں کو اس کا ایک صفحہ بھی پڑھنا ایسا مشکل ہو جاتا ہے جیسا کہ سیدھی سڑک کو چھوڑ کر نا ہموار زمین پر کسی کو گاڑی چلانی پڑے۔علاوہ ازیں دلائل ایسے لچر دیئے ہیں کہ میں امید کرتا ہوں کہ خود پیر صاحب کے مریدوں میں سے دانا لوگ اپنے پیر کی لیاقت کو پاگئے ہوں گے۔اور دراصل تو پیر صاحب کا یہ کام سراسر بے فائدہ تھا۔کیوں کہ اصحاب رسول رضی اللہ عنہم اجمعین اور تابعین اور تبع تابعین کسی کا قول حضرت عیسی علیہ السلام کے بمع جسد عنصری آسمان پر ہونے