واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 124 of 142

واقعات صحیحہ — Page 124

۱۲۴ اتنے میں خدائے رحیم و قدوس نے وحی کی کہ اِنِّی اَنَا الرَّحْمَنَ دَافِعُ الاذى اور پھر وحی ہوئی إِنِّي لَا يَخَافُ لَدَيَّ الْمُرْسَلُونَ۔اب میں اس چٹھی کو ختم کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ ہمارے بھائیوں کو ایمان اور محبت میں اپنے برگزیدہ موعود کے ساتھ روز افزوں ترقی مرحمت کرے۔اور وَسْوَاسِ خَنَّاس کی تمام باریک راہوں پر انہیں آگاہ کر دے جن سے وہ علی الغفلہ حملہ کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے عزموں کو قوی اور ہمتوں کو چست کر دے اور انکی بصیرت اور فراست میں نور رکھدے کہ وہ پست فطرت اور کمینہ طبع نکتہ چینیوں کو جو خدا کے برگزیدوں اور ماموروں پر بغض اور حقد اور حسد اور بغی کی راہ سے حملہ کرتے ہیں بالبداہت تاڑ لیں اور ایسی تمام کتابوں اور تحریروں کو جو ان تعفنات سے بھری ہیں پہلی ہی نظر میں پہچان جائیں اور مشام جان کو ان کی زہریلی بد بو سے بچالیں۔ان کو معالی طلب فطرت ملے اور مقاصد عالیہ اور عظیمہ ان کے پیش نہاد ہوں اور خوب سمجھ لیں کہ راستی کے بھوکوں اور علوم حقہ کے پیاسوں کو سیر و سیراب کرنے والا ایک ہی برگزیدہ ہے جس کا نام پاک مرزا غلام احمد ہے اور جان لیں کہ اس کے سوا اور سب ظلم و ظلمت کے فرزند اور ہلاکت اور تاریکی کی طرف بلانے والے ہیں۔اے خدائے کریم تو ہم سے اسی طرح راضی ہو جا جس طرح تو ان منعم علیہم سے راضی ہوا جن کا مذکور تیرے پاک کلام قرآن کریم میں ہے۔تو اس صرصر کے تند جھونکوں کے مقابل جو آجکل چاروں طرف سے چل رہی ہے۔ہمیں ثبات و استقامت عطا فرما کہ ساری تو فیقوں کا مخزن تو ہی ہے آمین۔حل برادران! یہ مضمون نا تمام رہ جاتا ہے اگر یہ چند سطریں اس کے ساتھ پیوست نہ کی جائیں۔آجکل لوگوں کے دل میں یہ خلجان ہو رہا ہے کہ حضرت موعود علیہ السلام قرآن کے موعود ہیں یا حدیث کے موعود ہیں۔اس مضمون پر حضرت موعود نے تحفہ گولڑوی میں بڑی بسط اس مبارک مضمون پر حضرت موعود علیہ السلام نے خطبہ الہامیہ کے ضمیمہ میں نرالے ڈھنگ سے پھر بحث کی ہے۔منہ