واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 79 of 142

واقعات صحیحہ — Page 79

۷۹ قرآن کریم کی پیش گوئی پوری ہوئی۔اور دونوں پیشگوئیوں کے ہدفوں پر یکساں بلا تفاوت موئے سکوت اور صرف الوجوہ کی صوت طاری ہوئی۔با ایں ہمہ کس قدر جرات اور خدا نا ترسی سے کہا جاتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی پیش گوئی پوری نہیں ہوئی۔اے امرتسری اور اس کے ہم مشر بو تمہارے ضمیر تمہیں اور تمہارے ساتھ ہی مہر شاہ کو ملزم نہیں کرتے اور تم سے اندر ہی اندر دست و گریباں ہو کر یہ سوال نہیں کرتے کہ کیوں پیر مہر علی شاہ صاحب نے دعوت کو قبول نہ کیا جس سے دو باتیں فوراً ثابت ہو جاتیں مستجاب الدعوات ہونا اور (۲) کلام اللہ کے معارف و حقائق کا لیگا نہ عارف اور اس لئے خدا تعالیٰ کا مقرب خاص ہونا۔کیوں پہلے کٹ حجت اور بات ٹلا دینے والے مولویوں کی طرح پیر صاحب نے ایک صاف پاک بات کو بگاڑنے کے لئے ایک نئی راہ نکالی۔مولوی محمد حسین صاحب اور ان کے امثال مباحثوں میں یا اُن روحانی کشتیوں میں حضرت مرزا صاحب کے مقابل ایسی ایچاپیچی کرنے اور حیلہ وحوالہ میں کسی قدر معذور بھی تھے اس لئے کہ وہ آسمان کے فرزند نہ تھے۔وہ تو زمین پر جھکے ہوئے اور آسمان سے کٹے ہوئے اور خالص زمین کے فرزند تھے مگر ولی اللہ پیر مہر شاہ صاحب نے کیوں ایسی باتوں کو ٹال دیا جسے خدا کی کتاب مجید نے عبادالرحمن اور عباد الشیطان میں فرق کا معیار ٹھہرایا ہے حق تو یہ تھا کہ اگر حضرت مرزا صاحب کے کلام میں ایچ بیچ اور تہ در تہ شرطیں بھی ہوتیں مگر کسی قرینے سے سمجھ میں آ سکتا کہ آپ کلام اللہ کی تفسیر نویسی کو معیار حق و باطل ٹھہراتے ہیں جب بھی پیر صاحب آگے بڑھ کر اسے پکڑتے اور پیچھا ہی نہ چھوڑتے جب تک صاف صاف منوا نہ لیتے۔اس لئے کہ خود اُن کیلئے خدا تعالیٰ کا یہ ٹھہرایا ہوا معیار تھا جس کے مقرب بن کر ارشاد کی مسند پر وہ بیٹھے ہیں اور رات دن مخلوق کو زمین کے تاریک گڑھوں سے نکال کر آسمان پر اُس کی طرف پہنچا رہے ہیں۔مگر یہاں تو صرف اور واضح دعوت تھی اور مستعمد کذاب بہ آسانی گرفتار ہو سکتا تھا پھر کس بات نے پیر صاحب کو مجبور کیا کہ اُنہوں نے ایک غیر مناسب اور قطعاً بے محل بات پیدا کر کے اُس میدان میں آنے سے اپنے تئیں بچا لیا۔اب بتاؤ کیا پیشگوئی بڑی وضاحت کے ساتھ پوری نہیں ہوگئی اور بتاؤ کہ حضرت مرزا صاحب کی پیشگوئی کا استخفاف قرآن کی ایسی ہی