واقعات صحیحہ — Page 80
۸۰ پیشگوئیوں سے استہزا نہیں تو اور کیا ہے؟ حضرت مرزا صاحب کی غیر حاضری لاہور میں پیر صاحب کے لئے از بس مفید تھی اور در حقیقت اگر راستی ان کی مساعد ہوتی تو مرزا صاحب کا حضور و عدم حضور لاہور میں دونوں ہی ان کے لئے کارآمد تھے۔پیر صاحب کو مباحثہ یارد دلائل کے بعد تفسیر قرآن کریم لکھنی ہی تھی۔لفظی مباحثہ ہی تو مرزا صاحب کے نہ آنے سے ضائع گیا۔ضائع ہوا سہی۔ایک رنگ میں اس قسم کی کارروائی تو پیر صاحب کر چکے ہوئے ہیں جب کہ آپ نے شمس الہدایت حضرت مرزا صاحب کی تردید میں شائع کیا۔قیام لاہور کے اثنا میں پیر صاحب کو کیسا وسیع اور بے روک موقعہ ملا تھا کہ آپ قرآن کریم کے کسی حصہ کی تفسیر کر کے اپنی رطب اللسانی اور عرفان تابی کا یقین ایک عالم کو دلا دیتے۔تفسیر نویسی کو معیار ٹھہرانے پر استہزا کرنا اور امرتسری صاحب کا توجہ یا جلوہ زلف عنبرین اور چشم سرمگیں کو کافی دلیل پیر صاحب کے منجانب اللہ ہو نیکی ٹھہرانا خدا کے کلام کے مقرر کئے ہوئے معیار کی بے عزتی کرنا ہے یہ کس قدر غلط بات ہے کہ اولیاء اللہ تقریریں نہیں کیا کرتے وہ صرف توجہ سے کام لیا کرتے ہیں۔امرتسری صاحب کو معلوم نہیں کہ بسا اوقات حضرت امام الاولیا خاتم الانبیاء صلے اللہ علیہ وسلم دن دن بھر کھڑے ہو کر تقریر کرتے اور ہر پیش آمدہ واقعہ پر معاً کھڑے ہو کر لوگوں کو مخاطب کرتے۔حضرت ابو بکر ، حضرت عمر ، حضرت عثمان ، حضرت علی رضی اللہ عنہم اجمعین ان سب کا یہی طریق تھا کہ ہر قسم کے مشکلات کے حل کرنے کے لئے بڑی بڑی تقریر میں کیا کرتے تھے۔تقریر تو اہل اسلام اور اولیاء اللہ کا خاصہ ہے جس میں اُن کا غیر شریک نہیں۔چنانچہ خدا کی کتاب فرماتی ہے۔خَلَقَ الْإِنْسَانَ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ - (الرحمن : 3-4) یعنی انسان کامل محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کو پیدا کر کے حسن تقریر کا آپ کو معجزہ عطا فرمایا اور اس صفت میں آپ کو سب عالم پر ممتاز کیا۔اور اس لئے کہ یہ معجزہ باہرہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا ابدی اور زندہ معجزہ ہو اور زمانہ کے صفحوں پر قائم اور درخشاں رہے۔خدا تعالیٰ نے آخری زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی بروز اور بعثت ثانی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کو ظلی طور پر وہی معجزہ عنایت کیا۔آپ نے زمانہ کے فصحا و بلغا کو نثر اور نظم اور بیان حقائق و معارف قرآن میں دعوت کی۔اور یہ دعوت اپنی ہی قوم تک مقصود نہیں رکھی بلکہ اُن نصرانیوں کو بھی