واقعات صحیحہ — Page 78
ZA موقعہ پر تو ایک میٹریلسٹ اور فری تھنکر بھی ٹھہر جاتا اور تذبذب میں پڑ جاتا ہے کہ اس جنس کی ایک قوم جو لا معلوم قدامت سے چلی آتی اور اس قسم کی یکساں الفاظ بولتے اور ان تحدیوں میں ہر زمانہ میں یکساں اپنے حریف پر منصور و مظفر ہوتی رہی ہے اور اپنی اس فوق العادة قدرت اور جلال کو ہمیشہ فاطر السما وارض کی ہمہ طاقت ذات سے منسوب کرتی رہی ہے اور کبھی کبھی اُن کے مخاطب اُن کی تحدیوں کے مقابلہ سے عہدہ برآ نہیں ہوئے اور ہر عصر میں علی اختلاف ملل و مشارب یکساں مخذول و مطرود ہوتے رہے ہیں۔غرض اس قسم کی پر ہیبت قوم لا ریب عام انسانی سطح سے بہت اونچی ہے اور ان کا تین وجود کسی غیب الغیب وجود کی آشکار دلیل ہے۔حاصل یہ کہ ایک دہر یہ بھی کم سے کم ایسے عظیم الشان دعووں کے سننے پر حیرت میں ضرور پڑ جاتا ہے مگر مسلمانوں کی ذریت کہلانے والے جن کے پاس نمونے موجود ہیں اور ایسے امور کو کتاب اللہ کے وجود میں تسلیم کر چکے ہیں۔اس برکت و خیر اور اس وقت کے فضل و رحم حضرت مرزا صاحب کی اس تحدی اور پیش گوئی سے انکار کرتے ہیں اور ساتھ ہی دعویٰ کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی یہ عادت ہی نہیں۔میں پوچھتا ہوں کہ کیا اُن لات و عزئی کے حامیوں کا فرض نہ تھا جن کے معبودوں اور ہمہ قدرت معبودوں کو ذلیل اور حصب جہنم کہا گیا تھا۔اور اُن کے بطلان و خذلان کی یہ دلیل پیش کی گئی تھی وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تَفْعَلُوا فَا تَقُو النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِینَ۔پھر میں پوچھتا ہوں کیا اُن متکبر پجاریوں کا فرض نہ تھا جن کو دل دکھا دینے والی تعریض سے اور کیسے جگر سے پار ہو جانے والے نشتر زا الفاظ میں کہا گیا۔اِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاء سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَآبَاءَ كُم مَّا أَنْزَلَ اللَّهُ بِهَا مِنْ سُلْطَنٍ ہاں کیا اُن کا بڑا بھاری فرض اور اُن پر قرض نہ تھا کہ ہر راہ سے آکر اس تحدی کا مقابلہ کرتے اور عابد و معبود دونوں ابدی عارد شنار سے بچ جاتے۔اُسی طرح اور ٹھیک اسی نمونہ پر حضرت مرزا صاحب نے پیر مہر علی شاہ صاحب صوفی ولی اللہ کے مقابل تحدی کی یعنی جس طرح فرقان حمید نے مشرکان عرب کو وَلَنْ تَفْعَلُو کہا اُسی طرح حضرت مرزا صاحب نے پیر مہر علی شاہ کو وَلَنْ تَفْعَلُو کہا کوئی مرد خدا ان دونوں میں کوئی ذرا سا تفاوت بھی تو بتا دے۔اور حضرت مرزا صاحب کی پیشگوئی بھی اُسی طرح حرفاً حرفاً پوری ہوئی جس طرح