واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 62 of 142

واقعات صحیحہ — Page 62

۶۲ اس قد رخزانہ بھرا گیا ہے کہ اگر کوئی انصاف کی نظر سے غور کے ساتھ اُس کو کم از کم تین دفعہ پڑھے گا اور اُس کے مضامین پر ایک اہل الرائے کی طرح تدبر کے ساتھ غور کرے گا تو میں یقین کرتا ہوں کہ اُس پر یہ بات کھل جائے گی کہ مرزا صاحب بے شک امام صادق ہیں۔مگر افسوس تو یہ ہے کہ لوگ بغیر کتابوں کے پڑھنے کے اور بغیر اُن پر غور کرنے کے مخالفوں کا ایک آوازہ اپنے کان میں ڈلوا کر اُسی پر پکے ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔چنانچہ انہی دنوں کا ذکر ہے کہ ایک شخص حافظ محمد یوسف صاحب ضلعدار نہر سے ہماری ملاقات ہوئی انہوں نے بھی یہی کہہ دیا کہ مہر شاہ نے مقابلہ منظور کر لیا تھا لیکن جب اُن سے پوچھا گیا کہ آپ نے فریقین کے اشتہارات پڑھے ہیں تو کہنے لگے نہیں پڑھے۔سنا ہے۔اب دیکھنا چاہئے کہ یہ تو لوگوں کا حال ہے۔اشتہارات دیکھے نہیں اور رائے قائم کر دی ہے۔اور اس جگہ اس بات کا ذکر خالی از فائدہ نہ ہوگا کہ یہ حافظ محمد یوسف صاحب البی بخش ملہم کی پارٹی کا آدمی ہے۔اور ان حافظ صاحب کے علاوہ دو اور آدمی یعنی بابو عبد الحق اور میاں فتح علی شاہ بھی اس پارٹی میں داخل ہیں۔اور شائد کوئی ایک دو آدمی اور بھی ان کے الہامات کے مطابق اُن کے ہم عقیدہ ہوں مگر بظاہر یہی چار آدمی ہیں۔اور ان کے متعلق ہمارے مخالفوں نے مشہور کیا ہے کہ یہ لوگ پہلے مرزا صاحب کے مرید تھے اور اب علیحدہ ہو گئے ہیں۔لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ اُن میں سے کسی کو بھی کبھی اس نیکی کی توفیق نہیں ہوئی کہ حضرت مرزا صاحب کی بیعت کر کے اس پاک جماعت میں شامل ہو جائیں۔ہاں کسی قدر حضرت مرزا صاحب کے ساتھ آمد و رفت اور خط و کتابت کا تعلق رکھنے کی وجہ سے ان لوگوں کے سامنے اکثر آسمانی نشانات ظہور میں آتے رہے اور حضرت مرزا صاحب سے خوارق اور کرامات دیکھ کر یہ لوگ ہمیشہ حضرت مرزا صاحب کے مداح تھے لیکن جب انہوں نے اُن نشانات کو دیکھ کر اس پاک سلسلے میں داخل ہونے سے تساہل کیا تو رفتہ رفتہ سنت اللہ کے موافق ان کے دل سخت ہوتے گئے اور ان سے نیکی کی تو فیق چھینی گئی یہاں تک کہ یہ لوگ بدترین دشمنوں میں داخل ہو گئے۔اور سلب ایمان اور سلب عقل کی وجہ سے ان لوگوں کی یہاں تک نوبت پہنچی کہ حافظ محمد یوسف نے مسجد میں بیٹھ کر ے نومبر ۱۹۰۰ ء کی رات کو بہت آدمیوں کے سامنے جن کی تعداد غالبا تمہیں کے قریب ہوگی ہمارے سامنے اس بات کا اقرار کیا کہ جو کوئی ترقی پاتا ہے سب جھوٹ سے پاتا ہے چنانچہ