واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 52 of 142

واقعات صحیحہ — Page 52

۵۲ جنس مولویوں کی طرف سے کوئی گالی یا کوئی وحشیانہ حرکت ظہور میں نہیں آئے گی۔اور یاد رہے کہ لاہور میں میرے ساتھ تعلق رکھنے والے پندرہ یا بہیں آدمی سے زیادہ نہیں ہیں ان کی نسبت یہ انتظام کر سکتا ہوں کہ مبلغ دو ہزار روپیہ ان تین رئیسوں کے پاس جمع کروا دوں گا اگر میرے ان لوگوں میں سے کسی نے گالی دی یا زدو کوب کیا تو وہ تمام روپیہ میرا ضبط کر دیا جائے۔میں وعدہ کرتا ہوں کہ وہ اس طرح پر خاموش رہیں گے کہ جیسے کسی میں جان نہیں مگر پیر مہر علی شاہ صاحب جن کو لاہور کے بعض رئیسوں سے بہت تعلقات ہیں اور شاید پیری مریدی بھی ہے ان کو روپیہ جمع کرانے کی کچھ ضرورت نہیں کافی ہوگا کہ حضرات معزز رئیسان موصوفین بالا اُن تمام سرحدی پُر جوش لوگوں کے قول اور فعل کے ذمہ دار ہو جائیں جو پیر صاحب کے ساتھ ہیں اور نیز ان کے دوسرے لاہوری مریدوں خوش عقیدوں اور مولویوں کی گفتار کردار کی ذمہ داری اپنے سپر د لے لیں جو کھلے کھلے طور پر میری نسبت کہہ رہے ہیں اور لاہور میں فتوے دے رہے ہیں کہ یہ شخص واجب القتل ہے۔ان چند سطروں کے بعد جو ہر ۳ معزز رئیسان مذکورین بالا اپنی ذمہ داری سے اپنے دست مشخطوں کے ساتھ شائع کر دیں گے اور پیر صاحب کے مذکورہ بالا اشتہار کے بعد پھر میں اگر بلا توقف لا ہور میں نہ پہنچ جاؤں تو کا ذب ٹھہروں گا۔ہر ایک شخص جو نیک مزاج اور انصاف پسند ہے اگر اس نے لاہور میں پیر مہر علی شاہ صاحب کی جماعت کا شور و غوغا سنا ہوگا اور ان کی گالیوں اور بد زبانیوں اور سخت اشتعال کے حالات کو دیکھا ہو گا تو وہ اس بات میں مجھ سے اتفاق کرے گا کہ اس فتنہ اور اشتعال کے وقت میں بجز شہر کے رئیسوں کی پوری طور کی ذمہ داری کے لاہور میں قدم رکھنا گویا آگ میں قدم رکھنا ہے۔جو لوگ گورنمنٹ کے قانون کی بھی کچھ پرواہ نہ رکھ کر اعلانیہ فتویٰ پہ فتویٰ میری نسبت دے رہے ہیں کہ یہ شخص واجب القتل ہے کیا ان کا وجود خطرناک نہیں ہے اور کیا شرع اور عقل فتوی دے سکتے ہیں کہ یہ پر جوش اور مشتعل لوگوں کے مجموعوں میں بغیر کسی پورے قانونی بندو بست کے جانا مضائقہ نہیں ہے؟ بے شک لاہور کے معزز رئیسوں لے پیر صاحب کو اس فیصلہ کے لئے پانچ دن کی مہلت دی جاتی ہے اگر پانچ دن تک جواب نہ آیا تو ان کی گریہ قطعی طور پر سمجھی جائے گی۔