واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 51 of 142

واقعات صحیحہ — Page 51

۵۱ سے زیادہ دوری نہیں ہوگی تا وہ دونوں ایک دوسرے کے حالات کے نگران رہ سکیں۔اگر کسی فریق کی کوئی خیانت ثابت ہو تو مقابلہ اُسی جگہ ختم ہو جائے گا اور اس فریق کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے گا جو اس حالت میں کیا جاتا جو وہ مغلوب رہتا۔(۶) ہر ایک فریق اپنی تفسیر کے دو دو ورق لکھ کر ان کی نقل فریق ثانی کو بعد دستخط دیتا رہے گا اور اسی طرح اخیر تک دودو ورق دیتا جائے گا تا یک دفعہ نقل لکھنے میں کسی خیانت کا کسی فریق کو موقع نہ ملے۔(۷) تفسیر کے بہر حال ہیں ورق ہوں گے اُس قلم اور تقطیع کے موافق جو مولوی نذیر احمد صاحب دہلوی کا قرآن شریف شائع ہوا ہے۔(۸) صبح کے چھ بجے سے ایک بجے تک یا اگر کوئی ہرجہ پیش آ جائے تو دو بجے تک دونوں فریق لکھتے رہیں گے۔(۹) ہرگز اختیار نہ ہو گا کہ کوئی فریق اپنے پاس کوئی کتاب رکھے یا کسی مددگار کو اپنے پاس بٹھاوے یا کسی اشارہ کنایہ سے مدد لے۔(۱۰) تفسیر میں کوئی غیر متعلق بات نہیں لکھی جائے گی صرف قرآن شریف کی ان آیات کی تفسیر ہوگی جو قرعہ اندازی سے نکلی ہیں۔اگر کوئی اس شرط کی خلاف ورزی کرے گا تو وہ بھی مغلوب سمجھا جائے گا۔(۱۱) اس بات پر کوئی بات زیادہ نہیں کی جائے گی کہ فریقین بالمقابل بیٹھ کر عربی میں تفسیر لکھیں اور نہ یہ کہا جائے گا کہ اوّل کوئی بحث کر لو یا کوئی اور شرائط قائم کر لو فقط عربی میں تفسیر لکھنا ہو گا وبس (۱۲) جب دونوں فریق قرعہ اندازی سے معلوم کر لیں کہ فلاں سورۃ کی تفسیر لکھنی ہے تو اختیار ہو گا کہ قبل لکھنے کے گھنٹہ یا دو گھنٹہ تک سوچ لیں مگر کسی سے مشورہ نہیں لیا جائے گا اور نہ مشورہ کا موقع دیا جائے گا بلکہ گھنٹہ دو گھنٹہ کے بعد لکھنا شروع کر دیا جائے گا۔یہ نمونہ اشتہار ہے جس کی ساری عبارت بلا کم و بیش پیر صاحب کو اپنے اشتہاروں میں لکھنی چاہئے اور اس پر پہنچ کس معززین لا ہور کی گواہیاں ثبت ہونی چاہئیں اور چونکہ موسم لاہور برسات ہے اس لئے ایسی تاریخ اس مقابلہ کی لکھنی چاہئے کہ کم سے کم تین دن پہلے مجھے اطلاع ہو جائے۔(۲) دوسرا امر جو میرے لاہور پہنچنے کے لئے شرط ہے وہ یہ ہے شہر لاہور کے تین رئیس یعنی نواب شیخ غلام محبوب سبحانی صاحب اور نواب فتح علی شاہ صاحب اور سید برکت علی خاں صاحب سابق اکسٹرا اسٹنٹ ایک تحریرہ بالا تفاق شائع کر دیں کہ ہم اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ پیر مہر علی شاہ صاحب کے مریدوں اور ہم عقیدوں اور ان کے ہم